اسلام آباد – پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو فروغ دے کر اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہو کر ملک کی ترقی کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کو خطے کا "بدمعاش ریاست” قرار دیتے ہوئے کہا:
"بھارت کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کی دلدل میں پھنسا کر اس کی ترقی کو روکا جائے تاکہ طاقت کا فرق بڑھتا رہے اور بھارت خطے پر اپنی مرضی مسلط کر سکے۔”
را کے نیٹ ورک اور سرحد پار قتل
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے انکشاف کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” پاکستان میں دہشت گرد سیلز کو مالی اور عملی مدد فراہم کر رہی ہے۔ ایک تفتیش کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ بھارتی انٹیلیجنس آفیسر "میجر سندیپ” پاکستان میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی میں ملوث پایا گیا۔
انہوں نے کہا:
"ہم نے وہ شواہد بھی پیش کیے ہیں جن میں مالی لین دین اور آڈیو ریکارڈنگز شامل ہیں جن میں اہداف کے انتخاب اور ہدایات دی جا رہی ہیں۔”
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ یہ نیٹ ورک لاہور سے کوئٹہ تک سرگرم ہیں اور کئی سالوں سے کام کر رہے ہیں۔
مکتی باہنی اور بھارتی تاریخ کا حوالہ
لیفٹیننٹ جنرل نے کہا کہ بھارتی حکومت کی دہشت گردی کی یہ پالیسی نئی نہیں، بلکہ 1971 میں مکتی باہنی کو بھی بھارت کی طرف سے سرکاری سطح پر دہشت گردی کے لیے استعمال کیا گیا۔
"یہ وہی ذہنیت ہے جس کا مظاہرہ ماضی میں بھی کیا گیا، اور بھارتی وزیراعظم مودی خود اس کا اعتراف کر چکے ہیں۔”
الزامات اور خطے میں جنگ کا خطرہ
انہوں نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ اپنے اندرونی مسائل، بالخصوص اقلیتوں پر مظالم، سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگاتا ہے۔
"بھارت میں دہشت گردی اس کی اپنی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جہاں مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دلتوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے،” انہوں نے کہا۔
لیفٹیننٹ جنرل شریف نے خبردار کیا کہ بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ خطے میں جنگ کے خطرے کو بڑھا رہا ہے۔
"ایک واقعہ جنگ کا سبب بن سکتا ہے، اور یہ 1.6 ارب افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے،” انہوں نے واضح کیا۔
پاکستان کا دفاعی رویہ اور ایٹمی اثاثوں کا تحفظ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر محفوظ اور عالمی معیار کے مطابق ہے۔
"کوئی بھی پاکستان کے جوہری اثاثوں پر حملے کی جرات نہیں کر سکتا،” انہوں نے کہا۔
"ہم ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہیں اور ہماری صلاحیت علاقائی توازن کو یقینی بناتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے، اور ریاستی ادارے اس پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔
