واشنگٹن میں ہونے والا کینیڈی سینٹر آنرز عام طور پر فنکاروں کے اعزاز اور ثقافتی جشن کی ایک پُرسکون شام ہوتی ہے۔ مگر اس بار فضا مختلف تھی۔ سلیبسٹر اسٹالون، گلوریا گینر، جارج اسٹریٹ، راک بینڈ "کِس” اور تھیٹر اسٹار مائیکل کرافورڈ جیسے بڑے نام موجود تھے، لیکن تقریب کا اصل مرکز توجہ کوئی دوسرا تھا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے نہ صرف شرکت کی بلکہ پہلی بار یہ تقریب باقاعدہ میزبان کی حیثیت سے سنبھالی۔
صدر کی موجودگی نے روایت بدل دی
تقریب کے آغاز اور اختتام، دونوں موقعوں پر، ٹرمپ نے اسٹیج سنبھالا۔ انہوں نے موجودہ اعزازی شخصیات کو "اب تک کی سب سے باصلاحیت فہرست” قرار دیا۔ یہ تبدیلی صرف گفتگو تک محدود نہیں رہی۔ اس بار اعزازات کے لیے برسوں سے استعمال ہونے والی ’’رینبو‘‘ رنگوں کی ربن بھی غائب تھی۔ اس کی جگہ گہرے نیلے اور طلائی رنگوں کا ڈیزائن متعارف کرایا گیا، جس نے تقریب کے آغاز سے پہلے ہی بحث چھیڑ دی تھی۔
اصل ہلچل تب مچی جب یہ واضح ہوا کہ اعزازی شخصیات کا انتخاب روایتی کمیٹی نے نہیں بلکہ خود صدر نے کیا ہے۔ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ کینیڈی سینٹر کے بورڈ میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئیں اور صدر ٹرمپ نے خود کو اس کا چیئرمین مقرر کیا، جس پر کئی پرانے اراکین نے نہایت محتاط ناراضی کا اظہار کیا۔
فنکاروں کا احترام موجود، مگر توجہ کہیں اور
اسٹیج پر پیش کیے گئے خراجِ تحسین اپنی جگہ بھرپور تھے۔ "کِس” کے مرحوم گٹارسٹ، ایس فریلی، کے نام پر پیش کیا گیا سیگمنٹ شائقین کے دل میں اتر گیا۔ گلوریا گینر کے لیے کھڑا ہو کر دیے گئے تعریفی لمحات نے تقریب کو جذباتی رنگ بھی دیا۔
مگر اصل مسئلہ یہ تھا کہ ہر بڑے لمحے میں کیمرے بار بار ایک ہی جانب پلٹ جاتے۔ صدر کے باکس کی طرف۔ چاہے تالیاں ہوں یا فنکاروں کی کارکردگی، نظر مسلسل ٹرمپ پر ٹھہر جاتی، جیسے کوئی دوسرا فریم اس رات اتنی اہمیت ہی نہ رکھتا ہو۔
ٹی وی براڈکاسٹ ٹیم کے ایک رکن نے اعتراف کیا کہ تقریب کی شوٹنگ ’’پچھلے برسوں جیسی نہیں‘‘ تھی۔ ان کے مطابق، "ہم فنکاروں کو خراج پیش بھی کر رہے تھے اور ساتھ ہی ایک واضح سیاسی تبدیلی کو بھی محفوظ کر رہے تھے۔”
فنونِ لطیفہ کے حلقے میں بے چینی
امریکا کے آرٹس کمیونٹی میں کئی لوگوں نے اس سال تقریب میں آنے سے گریز کیا۔ کچھ پرانے مہمانوں نے اسے ’’پہچان سے باہر‘‘ قرار دیا، جبکہ چند سرکردہ آرٹس رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں اعزازی انتخاب سیاسی بنیادوں پر جھک سکتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے چلی آ رہی ایک غیر سیاسی روایت کو اچانک بدلنے سے وہ توازن ٹوٹ گیا ہے جو اس اعزاز کی پہچان تھا۔
اس کے برعکس، ٹرمپ کے حامی اس تبدیلی کو تازگی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، صدر کو قومی ثقافتی تقریبات میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔
مگر اختلاف اپنی جگہ قائم ہے۔ اور یہ بات بھی واضح ہے کہ کینیڈی سینٹر آنرز کی روایت جو کبھی تنازع سے دور سمجھی جاتی تھی، اب سیاسی کشمکش کا ایک تازہ میدان بن چکی ہے۔
سی بی ایس اس تقریب کو 23 دسمبر کو نشر کرے گا، مگر نشر ہونے سے پہلے ہی بحث فیصلہ کر چکی ہے:
اس سال فنکاروں کا اعزاز پس منظر میں رہا، اور صدارت نے اسٹیج سنبھال لیا۔
