پاکستان میں دل کے امراض کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 30 سے 50 سال کی عمر کے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اب تقریباً نصف کیسز پچاس سال سے کم عمر افراد میں سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس تشویشناک رجحان کی سب سے بڑی وجوہات نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا اور سست طرزِ زندگی ہیں۔
معروف کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر عبدالحکیم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحت مند نظر آنے والے نوجوان افراد اچانک دل کے دورے کا شکار ہو رہے ہیں، اکثر بغیر کسی پیشگی علامت کے۔ ان کے مطابق نیند پوری نہ ہونا، ذہنی دباؤ کا بڑھنا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور پروسیس شدہ کھانوں کا استعمال اس مسئلے کو تیز کر رہا ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہارٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں 47 فیصد ہارٹ اٹیک کیسز پچاس سال سے کم عمر افراد میں ریکارڈ ہو رہے ہیں، جو پچھلی دہائیوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ رپورٹ میں بے قاعدہ نیند، زیادہ کیفین، سگریٹ نوشی، کم ورزش اور بڑھتے ذہنی امراض کو اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔
ادارے نے مشورہ دیا ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد باقاعدہ دل کے ٹیسٹ کروائے جائیں، روزانہ جسمانی سرگرمی اپنائی جائے، متوازن غذا کھائی جائے اور ذہنی دباؤ کو قابو میں رکھا جائے تاکہ اس رجحان کو روکا جا سکے۔
سینئر کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر جہانگیر علی شاہ نے بھی خبردار کیا کہ نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کا بڑھتا رجحان صرف طبی نہیں بلکہ عوامی صحت کا بحران بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق برسوں سے نیند کی قربانی، جنک فوڈ پر انحصار، اسکرینز کے سامنے زیادہ وقت اور مسلسل ذہنی دباؤ جیسے عوامل اب خطرناک نتائج دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر فوری طرزِ زندگی کی اصلاح ضروری ہے، جبکہ دفاتر، تعلیمی اداروں اور کمیونٹیز کو دل کی صحت کے لیے آگاہی اور احتیاطی پروگرام شروع کرنے چاہییں تاکہ اسپتالوں پر بوجھ کم ہو۔
دونوں ماہرین نے واضح کیا کہ دل کی بیماری اب صرف بوڑھوں کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ نوجوان طبقہ بھی بڑی تعداد میں اس کا شکار ہو رہا ہے۔ انہوں نے 30 سے 50 سال کے افراد کو مشورہ دیا کہ وہ باقاعدہ چیک اپ کرائیں، دل کے لیے صحت مند غذا اپنائیں، ورزش کریں اور مناسب نیند کو ترجیح دیں۔ ساتھ ہی پالیسی سازوں سے اپیل کی کہ عوامی آگاہی مہمات تیز کی جائیں اور ہر شخص کے لیے معیاری علاج کی سہولت یقینی بنائی جائے۔
