مظفرآباد — آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی، جس کے بعد فیصل ممتاز راٹھور بھاری اکثریت سے وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہوگئے۔ ان کی حلف برداری کل متوقع ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور کو 36 ووٹ ملے، جو تحریکِ عدم اعتماد کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں کے برابر ہیں، جبکہ صرف دو ووٹ مخالفت میں آئے۔ اس طرح راٹھور باآسانی نئے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ علالت کے باعث صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود حلف نہیں لیں گے، اور یہ ذمہ داری اسمبلی کے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر ادا کریں گے۔
اس سے قبل پیپلز پارٹی کے رکن قاسم مجید نے تحریکِ عدم اعتماد پیش کی تھی، جو جمعے کے روز 25 دستخطوں کے ساتھ سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔ ان میں 23 اراکین پیپلز پارٹی اور دو مسلم لیگ (ن) سے تھے۔
اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیرِ صدارت اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین کے ساتھ قائدِ حزبِ اختلاف خواجہ فاروق احمد بھی شریک تھے۔ کچھ دیر بعد وزیراعظم انوارالحق چار ارکان کے ہمراہ ایوان میں آئے اور پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار راجا فیصل ممتاز راٹھور سے مصافحہ بھی کیا۔
حال ہی میں ہونے والی سیاسی ہلچل نے پیپلز پارٹی کی پوزیشن مزید مضبوط کر دی تھی۔ اتوار کے روز تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک سے تعلق رکھنے والے دو وزرا — دیوان علی چغتائی اور تقدیس کوثر گیلانی — فریال تالپور سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے، جس سے پارٹی کی مجموعی تعداد 29 ہو گئی۔ اکتوبر میں بھی پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کے 10 اراکین پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔
چونکہ آزاد کشمیر اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 27 نشستیں کافی ہوتی ہیں، اس لیے پیپلز پارٹی ایوان میں اب واضح برتری رکھتی ہے۔
آئینِ آزاد کشمیر کے مطابق، تحریکِ عدم اعتماد کے حق میں ڈالا جانے والا ووٹ اسی امیدوار کے حق میں شمار ہوتا ہے جو اسی قرارداد میں متبادل وزیراعظم کے طور پر نامزد ہو۔ اسی لیے تحریک کی کامیابی کے ساتھ ہی راجا فیصل ممتاز راٹھور بلا مقابلہ وزیراعظم منتخب ہوگئے۔
موجودہ اسمبلی میں یہ وزیراعظم کی چوتھی تبدیلی ہے۔ 2021 میں قائم ہونے والی اس اسمبلی نے اب تک عبدالقیوم نیازی، سردار تنویر الیاس اور چوہدری انوارالحق کو وزیراعظم بنتے دیکھا ہے۔ فیصل ممتاز راٹھور اب بقیہ تقریباً چھ ماہ کے لیے وزارتِ عظمیٰ سنبھالیں گے۔
