دسمبر 2، 2025
ویب ڈیسک
جموں و کشمیر کے چیف منسٹر عمر عبداللہ نے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس (SMVDIME) میں مذہب کی بنیاد پر داخلوں کی کوششوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق نشستیں مذہبی بنیادوں پر تقسیم نہیں کی جا سکتیں۔
راجوری/جموں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ طلبہ جنہوں نے NEET کے ذریعے داخلہ حاصل کیا ہے، انہیں مذہب کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان طلبہ نے اپنی نشستیں مکمل طور پر قابلیت کی بنیاد پر حاصل کی ہیں۔
یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب جموں کے رام بن میں ہندو طلبہ کے لیے الگ MBBS کوٹا کے مطالبے پر احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ نمائندگی ضروری ہے، مگر حکومت کے مطابق NEET کے قواعد مذہبی تقسیم کی اجازت نہیں دیتے۔
عمر عبداللہ نے زور دے کر کہا کہ میڈیکل کالج کے قیام کے وقت ہی یہ طے تھا کہ داخلے صرف NEET کی میرٹ لسٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا، “NEET کا واحد معیار میرٹ ہے،” اور مذہبی کوٹے کے مطالبات کو مسترد کر دیا۔
