اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حالیہ پاک-بھارت جنگ کے دوران چین نے پاکستان کو "براہِ راست سیٹلائٹ معلومات” فراہم کیں۔ خواجہ آصف نے ان الزامات کو "اندرونی عوامی دباؤ کم کرنے کی کوشش” قرار دیا ہے۔
بھارت کے ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راہول آر سنگھ نے ایک دفاعی تقریب میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو چین کی جانب سے حقیقی وقت میں سیٹلائٹ انٹیلی جنس فراہم کی گئی، جبکہ ترکی نے پاکستان کو ڈرونز اور فوجی تربیت فراہم کی۔
خواجہ آصف نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے یہ جنگ نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی محاذ پر بھی خود اپنے بل بوتے پر جیتی۔ ان کے مطابق ایسی جھوٹی خبریں صرف بھارت کے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔
"اگر ہم امریکہ سے اسلحہ خریدتے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ ہماری جنگوں میں شامل ہوتا ہے؟” انہوں نے سوال کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ چین اور ترکی نے صرف سفارتی حمایت فراہم کی، نہ کہ عسکری مدد۔ ان کے مطابق بھارت کو سفارتی سطح پر بھی شکست ہوئی، کیونکہ صرف اسرائیل اس کے ساتھ کھڑا تھا۔
وزیر دفاع نے بھارت کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا:
"اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی کوشش کی، تو انجام وہی ہوگا — شکست اور پشیمانی۔”
یاد رہے کہ یہ چار روزہ جنگ اُس حملے کے بعد شروع ہوئی تھی جو اپریل میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاحوں پر ہوا، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا، تاہم اسلام آباد نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے ایک آزاد اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی۔
جنگ کے دوران میزائل حملے، ڈرونز اور توپخانے کا استعمال ہوا، اور بالآخر امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا۔
ادھر بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سیٹلائٹ تصاویر کمرشل طور پر دستیاب ہوتی ہیں اور کسی بھی ملک سے خریدی جا سکتی ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی ملک براہِ راست جنگ میں ملوث ہے
