کراچی میں یومِ اطفال کے موقع پر بچوں کے معروف تعلیمی پروگرام "پکّے دوست” کی نئی سیریز "بچپن بےمثال” کی رونمائی کی گئی، جو یونیسف کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔ یہ واپسی صرف ایک ٹی وی شو کا نیا سیزن نہیں لگتی، بلکہ بچوں کی ابتدائی تعلیم میں نئی جان ڈالنے کی سنجیدہ کوشش نظر آتی ہے۔
اس تقریب میں موسیقار بلال مقصود، اداکارہ سنم سعید، اداکار ایاز خان اور یونیسف کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کا ماحول کچھ ایسا تھا جیسے ہر شریک شخص اپنے ہی بچپن کے دروازے دوبارہ کھلتے دیکھ رہا ہو۔
اردو زبان کو دلچسپ بنانے کی کوشش
پاکستان میں برسوں سے ایک بڑی شکایت یہ ہے کہ اسکولوں میں اردو کو بےرونق اور مشکل موضوع بنا دیا گیا ہے۔ بچے رٹے تو لگا لیتے ہیں، مگر زبان سے جڑ نہیں پاتے۔
نئی سیریز اسی مسئلے کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے۔
اس میں کہانیاں، گیت، مکالمے، روزمرہ زندگی کے چھوٹے منظرنامے اور کھیل کے ذریعے اردو کی سادہ، خوش مزاج اور دلکش شکل پیش کی گئی ہے تاکہ بچے زبان سے فطری طور پر جڑیں۔
بچوں کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے بھی رہنمائی
دلچسپ بات یہ ہے کہ "پکّے دوست” صرف بچوں پر نہیں رکتا۔ پروگرام والدین اور سرپرستوں کو بھی شریک کرتا ہے—خاص طور پر ابتدائی ذہنی نشوونما، جذباتی سہارا، توجہ، کھیل، اور گھر کے معمولات میں سیکھنے کے چھوٹے طریقے سکھاتا ہے۔
سنم سعید نے تقریب میں کہا کہ بچے پالنا آسان نہیں، اور والدین کو ایسی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے جو بوجھ نہ لگے۔ پروگرام اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسکولوں میں خصوصی اسکریننگز
پروڈیوسرز اس سیزن کو صرف ٹی وی تک محدود نہیں رکھ رہے۔ مختلف شہروں کے اسکولوں میں اس کے خصوصی شوز کرائے جائیں گے تاکہ بچے اکٹھے دیکھیں، سیکھیں اور ایک دوسرے سے بات چیت بھی کریں۔
اساتذہ کے لیے یہ ماڈرن تعلیمی مواد خاصی مددگار ثابت ہوسکتا ہے—خاص طور پر ان کلاسز میں جہاں چھوٹے بچے جلدی بور ہوجاتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
یونیسف اور کری ایٹو ٹیم اس بات کا جائزہ لے گی کہ بچے اس مواد پر کیسا ردِعمل دکھاتے ہیں:
کیا وہ زبان بہتر سیکھ رہے ہیں؟
کیا ان میں اعتماد، تجسس یا جذباتی سمجھ بڑھ رہی ہے؟
انہی نتائج کی بنیاد پر آئندہ اقساط اور آنے والے سیزنز کی سمت طے ہوگی۔
فی الحال اتنا ضرور ہے کہ "پکّے دوست” لوٹ آیا ہے — اور اس بار وہ صرف تفریح نہیں، بلکہ بچوں کا بچپن بہتر اور بےمثال بنانے کے مشن کے ساتھ آیا ہے۔
