کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور سابق کپتان راشد لطیف کے درمیان جاری طویل تنازعہ بالآخر اس وقت ختم ہوگیا جب لطیف نے بورڈ کے خلاف اپنے پہلے دیے گئے بیانات بلا شرط واپس لے لیے۔
یہ معاملہ اُس وقت شروع ہوا تھا جب لطیف نے اشارہ دیا کہ محمد رضوان کو ون ڈے کپتانی سے ہٹانے کی وجہ ان کی جانب سے فلسطین کی حمایت ہو سکتی ہے۔ اس بیان کے بعد پی سی بی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں شکایت درج کروائی، جس کے تحت لطیف کو 17 نومبر کو لاہور دفتر میں تحقیقاتی افسر کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس ملا۔
بعد ازاں سابق وکٹ کیپر نے اس انکوائری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
لطیف نے بعد میں ایک تفصیلی معافی نامہ پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری کیا، جس میں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے بیانات کا مقصد کسی کھلاڑی، بورڈ حکام یا کسی بھی فریق پر الزام لگانا نہیں تھا۔
انہوں نے لکھا:
“میرے حالیہ سوشل میڈیا اور انٹرویوز میں کیے گئے تبصروں کا تعلق ’سرگٹ ایڈورٹائزنگ‘ سے تھا۔ میری بنیادی تشویش حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری ہدایات کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے حوالے سے تھی۔”
