نومبر 12، 2025
ویب ڈیسک
پیو ریسرچ سینٹر کی نئی رپورٹ کے مطابق نائجیریا میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جبکہ مسیحی آبادی دوسری بڑی مذہبی برادری کے طور پر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دونوں مذاہب کی تعداد گزشتہ دہائی کے دوران نمایاں طور پر بڑھی ہے، جو ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2020 تک 56.1 فیصد نائجیرین مسلمان جبکہ 43.4 فیصد مسیحی تھے۔ باقی آبادی کا صرف ایک معمولی حصہ دیگر مذاہب یا روایتی عقائد سے وابستہ ہے۔ نائجیریا دنیا کا واحد ملک ہے جو بیک وقت سب سے بڑی دس مسلم اور دس مسیحی آبادیوں میں شامل ہے۔
2010 سے 2020 کے درمیان نائجیریا کی مسلم آبادی میں 32 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 12 کروڑ تک پہنچ گئی، جبکہ مسیحی آبادی میں 25 فیصد اضافہ ہوا اور یہ لگ بھگ 9 کروڑ 30 لاکھ تک جا پہنچی۔ یہ اضافہ زیادہ پیدائش کی شرح اور نوجوان آبادی کے تناسب سے منسلک ہے کیونکہ ملک کی نصف آبادی 18 سال سے کم عمر ہے۔
اگرچہ اسلام اور عیسائیت غالب مذاہب ہیں، لیکن افریقی روایتی عقائد بھی نائجیریا کے معاشرے میں اثر انداز ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً 70 فیصد بالغ افراد جادو، ٹونے یا بددعا کے اثرات پر یقین رکھتے ہیں۔
نائجیریا کی مذہبی مردم شماری ہمیشہ سے حساس معاملہ رہی ہے۔ مذہب سے متعلق آخری مردم شماری 1973 میں ہوئی تھی، مگر نتائج تنازعات کے باعث جاری نہیں کیے گئے۔ 2023 کی مجوزہ مردم شماری میں مذہب سے متعلق سوال شامل کرنے کی افواہوں پر ادارہ شماریات نے وضاحت دی کہ مذہبی شناخت کے سوال کو "حساسیت” کے باعث شامل نہیں کیا جائے گا۔
پیو ریسرچ کے مطابق نائجیریا ان سات ممالک میں شامل ہے جہاں مذہبی بنیادوں پر انتہائی زیادہ سماجی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ بوکو حرام اور اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ جیسے شدت پسند گروہ مساجد اور گرجا گھروں دونوں پر حملے کر چکے ہیں۔ اسی طرح ملک کے وسطی علاقے میں مسلمان چرواہوں اور مسیحی کسانوں کے درمیان زمین اور وسائل پر تنازعات بھی پرتشدد تصادم کا باعث بنے ہیں۔
حکومت کی سطح پر بھی مذہبی پابندیاں نمایاں ہیں۔ شمالی نائجیریا کی 12 ریاستوں اور وفاقی دارالحکومت میں شریعتی قوانین نافذ ہیں، جن کے تحت نہ صرف مسلم برادری بلکہ بعض مسیحیوں اور مذہب سے الحاد اختیار کرنے والوں پر بھی توہینِ مذہب کے مقدمات چلائے گئے ہیں۔
