لاہور: وزیرِاعظم شہباز شریف نے اگلے سال 23 سے 31 جنوری تک پاکستان میں منعقد ہونے والے 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تیاریوں کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی منظوری دے دی ہے۔
یہ مقابلے پہلے 2021 میں ہونے تھے لیکن کورونا وبا کے باعث مؤخر کیے گئے، پھر تاریخ 2025 کر دی گئی، اور اب یہ ایونٹ جنوری 2026 میں ہوگا۔
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی کا پہلا اجلاس پیر کو اسلام آباد میں متوقع ہے، جس میں گیمز کے مجوزہ منصوبوں، اخراجات، اسپورٹس انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی گیمز کے انعقاد سے متعلق اپنی حتمی سفارشات تیار کرے گی۔
وفاقی وزراء احسن اقبال، محمد اورنگزیب، رانا ثناء اللہ، سینئر وزیر مریم اورنگزیب، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف سعید اور رانا مشہود احمد خان بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے اور صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
بین الصوبائی رابطہ ڈویژن، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ داخلہ کے سیکریٹریز بھی کمیٹی میں موجود ہوں گے۔
اس سال فروری میں ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل (SAOC) کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس لاہور میں ہوا تھا، جس میں 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تیاریوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔
اجلاس کی صدارت SAOC کے صدر اور پاکستان کے نیشنل اولمپک کمیٹی کے سربراہ عارف سعید نے کی، جہاں جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان کھیلوں کے فروغ اور باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
SAOC کی پریس ریلیز کے مطابق اجلاس کے دوران اس بات کا بھی ذکر ہوا کہ کیسے پیرس 2024 اولمپکس میں ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا نے جیولن تھرو میں میڈلز جیت کر جنوبی ایشیا کا نام عالمی سطح پر روشن کیا—جس سے خطے کے نوجوان کھلاڑیوں میں نیا جوش پیدا ہوا اور کھیلوں کے ذریعے امن اور اتحاد کا پیغام اجاگر ہوا۔
تاہم یہ ساری پیش رفت پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال سے پہلے کی ہے۔
اگر حالات سازگار رہے تو ساؤتھ ایشین گیمز میں بنگلادیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال، میزبان پاکستان اور سری لنکا کے کھلاڑی شرکت کریں گے۔
