وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کو ہرگز نہیں روکے گی کیونکہ یہ بجلی پیدا کرنے کا سب سے سستا اور مؤثر ذریعہ ہے۔ اسلام آباد میں “اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” کے موبائل ایپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تیزی سے سولرائزیشن ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے بجٹ میں ترمیم کر کے سولر پینلز کے امپورٹ پر عائد سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا ہے، جو صرف 46 فیصد درآمدی اشیاء پر لاگو ہوگا۔ اس فیصلے سے سولر پینلز کی قیمتوں میں صرف 4.6 فیصد اضافہ ہوگا۔
نئی موبائل ایپ صارفین کو اپنی بجلی کی میٹر ریڈنگ خود درج کرنے کی سہولت دیتی ہے اور یہ پانچ مقامی زبانوں میں دستیاب ہے تاکہ مختلف صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھے۔ وزیرِاعظم نے اس اقدام کو "انقلابی اصلاح” قرار دیا جو صارفین کو بااختیار بناتا ہے۔
انہوں نے بجلی کے بلوں سے پی ٹی وی فیس ختم کرنے کا بھی اعلان کیا، جسے عوامی مطالبہ قرار دیا۔
بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے بتایا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں میرٹ پر تقرریاں کی گئی ہیں اور بجلی چوری جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بجلی چوری سے سالانہ 500 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی پی پیز (نجی بجلی گھروں) کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ قیمت کم ہو کر 7.41 روپے ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی، سرکلر ڈیٹ کے مسئلے پر بینکوں کے ساتھ بھی اہم معاہدے کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ سولر پینلز پر ٹیکس میں کمی ایک متوازن قدم ہے جو سبز توانائی میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کو فروغ دے گا۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ نئی ایپ شفافیت کو فروغ دے گی اور صارفین کو ان کا حق واپس دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اربوں روپے کی اووربلنگ کی رقم صارفین کو واپس کی جا چکی ہے۔
وزیرِاعظم نے آخر میں بجلی چوری اور سولر کے باعث کم استعمال جیسے مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کا حکومت ان مسائل کے مستقل حل پر کام کر رہی ہے تاکہ صنعتی و گھریلو صارفین کو مزید ریلیف دیا جا سکے۔
