بالی وُڈ کے معروف اداکار آیوشمان کھرانہ نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے — انہوں نے اپنی 2018 کی سپر ہٹ فلم اندھا دھن (Andhadhun) کے لیے صرف ایک روپیہ معاوضہ لیا تھا۔
حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں آیوشمان نے بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ فلم کے بجٹ اور تخلیقی وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا تھا۔
انہوں نے کہا:
“میں نے اندھا دھن کے لیے اپنی عام فیس نہیں لی۔ میں نے صرف ایک روپیہ لیا — وہ بھی علامتی طور پر۔ میرے لیے کہانی اور تخلیق زیادہ اہم تھی، پیسہ نہیں۔”
سری رام راگھون کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم بالی وُڈ کی جدید دور کی بہترین تھرلر فلموں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ فلم نے نہ صرف زبردست تعریفیں حاصل کیں بلکہ شاندار کاروبار بھی کیا۔ آیوشمان کے “اندھے پیانو بجانے والے” کے کردار نے انہیں نیشنل ایوارڈ برائے بہترین اداکار بھی دلوایا۔
آیوشمان نے مزید بتایا کہ فلم کے کامیاب ہونے کے بعد انہیں فائدے میں سے حصہ دیا گیا، مگر ابتدا میں انہوں نے پروڈیوسرز پر مالی دباؤ نہ ڈالنے کے لیے اپنی فیس چھوڑ دی تھی۔
انہوں نے کہا:
“میں ہمیشہ مانتا ہوں کہ اگر فلم کامیاب ہوتی ہے تو سب کو اس کا فائدہ ملنا چاہیے۔”
آج جب بالی وُڈ میں بعض اداکار فلم کے بجٹ کا 60 سے 70 فیصد بطور فیس مانگتے ہیں، آیوشمان کا یہ فیصلہ منفرد اور جرات مندانہ سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، وہ ہمیشہ “پروڈیوسر فرینڈلی” رہنا پسند کرتے ہیں اور کہانی پر یقین ہونے کی صورت میں پیسے کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔
2018 میں ریلیز ہونے والی اندھا دھن نے دنیا بھر میں 450 کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کیا اور سال کی سب سے منافع بخش فلموں میں شامل ہوئی۔
آیوشمان کھرانہ کا یہ ایک روپیہ معاوضہ آج ایک علامت بن چکا ہے — ایک ایسے فنکار کی جو پیسے سے زیادہ اپنے فن اور کہانی پر یقین رکھتا ہے۔
