اسرائیل-ایران تنازع اور خطے میں استحکام کے حوالے سے استنبول میں او آئی سی کا اہم اجلاس
استنبول اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا 51واں وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج (ہفتہ) کو استنبول میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں غیر معمولی شرکت اور بین الاقوامی توجہ دیکھنے میں آ رہی ہے۔
“ایک بدلتی دنیا میں او آئی سی” کے عنوان سے ہونے والا یہ اجلاس، او آئی سی کے 57 رکن ممالک میں سے 40 سے زائد وزرائے خارجہ کو ایک جگہ لا رہا ہے، جبکہ مجموعی شرکت کا تخمینہ 1,000 سے زائد افراد پر لگایا جا رہا ہے، جو تنظیم کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہے۔ اس اجلاس کی اہمیت اس بات کا مظہر ہے کہ خطے میں جاری بحران پر فوری اور مشترکہ سفارتی ردعمل کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
اس اجلاس کے متوازی عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کی غیر معمولی کونسل بھی استنبول میں اجلاس کر رہی ہے، جس میں کشیدگی میں کمی اور مشترکہ لائحہ عمل پر زور دیا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دونوں اجلاسوں میں شریک ہیں، کیونکہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کا ممکنہ ردعمل بین الاقوامی تشویش کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ترک وزیر خارجہ حکان فدان اجلاس کا افتتاحی خطاب کریں گے، جبکہ صدر رجب طیب اردوان بھی شرکاء سے خطاب کریں گے۔ سعودی عرب، مصر، پاکستان، عراق، اردن، انڈونیشیا، اور قطر سمیت کئی اہم اسلامی ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
اس اجلاس کا مقصد اسلامی اتحاد کو مضبوط بنانا اور جاری تنازعے کے جواب میں مشترکہ حکمتِ عملی تیار کرنا ہے، جبکہ خطے کی سلامتی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ممکنہ اثرات پر بھی وسیع تر بات چیت متوقع ہے۔
عرب رہنما تحمل اور سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری کی نظریں ان نتائج پر جمی ہیں جو آنے والے ہفتوں میں خطے کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
