اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کے پہلے یوٹیوب ڈیٹنگ شو لازوال عشق پر پابندی کے لیے دائر درخواست پر سماعت شروع کر دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ پروگرام معاشرتی و اخلاقی اقدار کے خلاف ہے اور معاشرے میں “فحاشی” اور “اخلاقی زوال” کو فروغ دیتا ہے۔
یہ درخواست امان ترقی پارٹی کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ شو کا مواد پاکستانی ثقافتی اور مذہبی روایات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت، پیمرا، پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
لازوال عشق کا تصور معروف بین الاقوامی شو Love Island سے متاثر ہے، جس میں مرد و خواتین ایک ہی ولا میں رہتے ہیں، تعلقات بناتے ہیں اور مختلف چیلنجز میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ فارمیٹ پاکستانی ناظرین کے لیے ایک نیا اور متنازع تجربہ ثابت ہوا ہے۔
اداکارہ عائشہ عمر کی میزبانی میں بننے والے اس شو کے ٹیزر کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین نے اسے پاکستانی تفریحی صنعت میں ایک جرات مندانہ قدم قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے غیر اخلاقی اور غیر ثقافتی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔
درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ پیمرا اور پی ٹی اے کو ایسے مواد کی نگرانی کی ہدایت دی جائے اور اسلامی نظریاتی کونسل کے کردار کو ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے واضح کیا جائے۔
عائشہ عمر نے عوامی ردِعمل پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ لازوال عشق کو “ڈیٹنگ شو” کہنا درست نہیں، بلکہ اس کا مقصد جدید تعلقات کو ایک ذمے دارانہ زاویے سے پیش کرنا ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔
