پاکستان کی معروف اداکارہ صبا قمر نے صحافی نعیم حنیف کے خلاف ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس جاری کر دیا ہے،
جس میں ان پر ان کی نجی زندگی سے متعلق “جھوٹے، بے بنیاد اور نقصان دہ الزامات” لگانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اداکارہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر عدالت جائیں گی کیونکہ “خاموشی کو کمزوری سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔”
معاملہ کیسے شروع ہوا
چند دن قبل صحافی نعیم حنیف نے ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ
سال 2003–2004 میں صبا قمر لاہور کے علاقے والٹن میں ایک ایسے گھر میں مقیم تھیں
جو مبینہ طور پر ایک شخص نے انہیں دیا تھا جس سے ان کے “ذاتی تعلقات” تھے۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعد میں وہ شخص صبا کو ہراساں کرنے لگا،
اور اداکارہ نے مبینہ طور پر ایک نیوز ادارے میں شکایت درج کروائی تھی۔
صبا قمر نے ان تمام الزامات کو غلط، جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل دیا۔
انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا:
“کسی پر جھوٹے الزامات لگانا جرم ہے۔
میں کبھی والٹن میں نہیں رہی، اور نہ ہی وہ سب کیا جس کا الزام لگایا گیا ہے۔
بس بہت ہوگیا — اب عدالت میں ملاقات ہوگی!”
قانونی نوٹس کی تفصیلات
صبا قمر کے وکیل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق،
اداکارہ نے نعیم حنیف کو ہتکِ عزت (Defamation) کے تحت قانونی نوٹس بھیجا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ:
-
ان کے بیانات نے صبا قمر کی شخصی ساکھ کو نقصان پہنچایا،
-
وہ بے بنیاد الزامات کو فوراً واپس لیں،
-
اور عوامی سطح پر تحریری معافی شائع کریں۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر نعیم حنیف نے مقررہ مدت میں معافی نہ مانگی تو
اداکارہ عدالت میں 10 کروڑ روپے ہرجانے کا مقدمہ دائر کریں گی۔
صبا قمر کا مؤقف — “میری خاموشی کمزوری نہیں”
اداکارہ نے بعد ازاں ایک اور پوسٹ میں لکھا:
“میری خاموشی کو کبھی کمزوری نہ سمجھا جائے۔
میں نے اپنی ساکھ سخت محنت سے بنائی ہے اور کسی کو اجازت نہیں دوں گی کہ وہ اسے جھوٹ سے داغدار کرے۔”
ان کے اس اقدام کے بعد شوبز انڈسٹری کی متعدد شخصیات اور مداحوں نے ان کی حمایت کی،
اور کہا کہ ”افواہوں کے خلاف کھڑا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔”
عوامی اور انڈسٹری کا ردِعمل
سوشل میڈیا پر صبا قمر کے حق میں ہزاروں پوسٹس کی گئیں۔
ہیش ٹیگز #ISupportSabaQamar اور #StopDefamation ٹرینڈ کرنے لگے۔
اداکاروں، صحافیوں اور مداحوں نے متفقہ طور پر کہا کہ
“صحافت اور کردار کشی کے درمیان ایک لکیر ہوتی ہے — اور اب وہ لکیر پار نہیں ہونی چاہیے۔”
یہ کیس کیوں اہم ہے
-
صبا قمر کے لیے: یہ قدم واضح کرتا ہے کہ وہ اپنی عزت اور نجی زندگی پر کسی قسم کی الزام تراشی برداشت نہیں کریں گی۔
-
میڈیا کے لیے: یہ یاد دہانی ہے کہ غیر مصدقہ یا سنسنی خیز دعوے کرنے سے قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
-
عوام کے لیے: یہ واقعہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آزادیٔ اظہار اور ذاتی وقار کے درمیان توازن کہاں قائم ہونا چاہیے۔
صبا قمر نے آخر میں کہا:
“خبر اور بہتان میں فرق ہوتا ہے۔
میں عدالت میں یہ فرق سب کو یاد دلاؤں گی۔”
