نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 18 مئی سے ملک بھر میں درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گرمی کی لہر کا یہ سلسلہ طویل ہو سکتا ہے، جو نہ صرف عوامی صحت بلکہ بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی ایک چیلنج ثابت ہوگا۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خطے میں ہائی پریشر کا نظام بن رہا ہے، جس کی وجہ سے ٹھنڈی ہواؤں کا گزر رک گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں دن کا درجہ حرارت معمول سے کافی اوپر جانے کا امکان ہے۔ عام شہریوں کے لیے اس کا مطلب ایک شدید گرم موسم کا آغاز ہے جو مئی کے اختتام تک جاری رہ سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے صوبائی اداروں کو فوری طور پر ہیٹ ویو رسپانس پلان فعال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس میں شہری علاقوں کے مصروف مقامات پر ہائیڈریشن سینٹرز کا قیام اور ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک سے نمٹنے کے لیے ضروری ادویات کی فراہمی شامل ہے۔ حکام کو خاص طور پر جنوبی پنجاب اور بڑے شہروں میں گرمی کی شدت کا خدشہ ہے، جہاں کنکریٹ کے ڈھانچے "اربن ہیٹ آئی لینڈز” بن کر سورج ڈوبنے کے بعد بھی گرمی کو خارج نہیں ہونے دیتے۔
این ڈی ایم اے کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم صورتحال کی گھنٹہ وار نگرانی کر رہے ہیں۔” اگرچہ فی الحال ہنگامی حالت کا اعلان نہیں کیا گیا، مگر جاری کردہ ہدایات سے واضح ہے کہ ادارہ کسی بھی غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صبح 11 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک غیر ضروری گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں۔
زرعی ماہرین بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سیزن کے اس مرحلے پر شدید گرمی فصلوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پہلے ہی پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ کسانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آبپاشی کا شیڈول اس طرح ترتیب دیں کہ دن کے گرم ترین اوقات میں پانی کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔
یہ محض گرمی کا معاملہ نہیں؛ درجہ حرارت بڑھتے ہی قومی پاور گرڈ پر بجلی کا بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اگر گرڈ اس طلب کو پورا نہ کر سکا تو عوام کو بجلی اور پانی کی قلت جیسے دوہرے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
