عارف حبیب کی قیادت میں قائم کنسورشیم نے نجکاری کمیشن کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، یعنی پی آئی اے، کے باقی ماندہ 25 فیصد حصص بھی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق اس مقصد کے لیے کنسورشیم نے اسٹینڈ بائی لیٹر آف کریڈٹ اور بینک گارنٹی بھی جمع کرا دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف ابتدائی دلچسپی نہیں بلکہ آگے بڑھنے کا سنجیدہ فیصلہ ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسی کنسورشیم نے دسمبر 2025 میں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی دی تھی۔ وہ لین دین پہلے ہی پاکستان کی حالیہ نجکاری مہم کے اہم ترین مراحل میں شمار کیا جا رہا تھا، کیونکہ پی آئی اے برسوں سے ریاست کے لیے مالی بوجھ، انتظامی مسائل اور کمزور کارکردگی کی علامت بنی ہوئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق باقی 25 فیصد حصص کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بنتی ہے۔ اسی بنیاد پر اب یہ امکان مضبوط ہو گیا ہے کہ خریدار گروپ صرف اکثریتی کنٹرول تک محدود رہنے کے بجائے پی آئی اے کی مکمل ملکیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو حکومت کی قومی ایئرلائن میں براہِ راست حصہ داری تقریباً ختم ہو جائے گی۔
اس پیش رفت کی اہمیت صرف حصص کی خریداری تک محدود نہیں۔ اگر کنسورشیم مکمل ملکیت حاصل کر لیتا ہے تو اسے انتظامی فیصلوں، تنظیمِ نو، روٹس کی حکمت عملی، اخراجات میں کمی اور طویل مدتی کاروباری منصوبہ بندی میں زیادہ آزادی مل سکتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کے لیے یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ وہ ایک مسلسل خسارے والے سرکاری ادارے سے عملی طور پر مکمل دستبرداری کی طرف بڑھ رہی ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری کو پاکستان کی وسیع تر معاشی اصلاحات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ حکومت ایک طرف سرکاری اداروں کے مالی بوجھ کو کم کرنا چاہتی ہے، دوسری طرف سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ بڑے ریاستی اداروں میں نجی شعبے کی شمولیت کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی لیے اس خبر کو محض ایک کارپوریٹ سودا نہیں بلکہ اقتصادی پالیسی کے بڑے فریم ورک کا حصہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
اب نگاہیں اس بات پر ہیں کہ نجکاری کمیشن اس پیش رفت کو کس رفتار سے آگے بڑھاتا ہے اور باقی حصص کی خریداری کب اور کن شرائط پر مکمل ہوتی ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہو رہی ہے: عارف حبیب کی قیادت میں کنسورشیم محض پی آئی اے کا کنٹرول لینے پر اکتفا نہیں کرنا چاہتا، بلکہ وہ قومی ایئرلائن کی مکمل ملکیت کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
