متحدہ عرب امارات میں گاڑی مالکان کے لیے کل سے ریلیف کا آغاز ہو رہا ہے۔ فیول پرائس کمیٹی نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے مئی 2026 کے لیے پیٹرول اور ڈیزیل کے نرخوں میں واضح کٹوتی کا اعلان کر دیا ہے۔
یکم مئی سے نافذ العمل ہونے والی نئی قیمتوں کے مطابق، سپر 98 اب 3.15 درہم فی لیٹر میں دستیاب ہوگی، جو اپریل میں 3.28 درہم تھی۔ اسپیشل 95 کی قیمت 3.04 درہم، جبکہ ای پلس 91 کی قیمت 2.96 درہم مقرر کی گئی ہے۔ ڈیزیل کی قیمت میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے، جو 3.35 درہم سے گر کر 3.20 درہم فی لیٹر پر آ گئی ہے۔
رواں سال یہ مسلسل دوسرا موقع ہے جب قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔ شارجہ اور دبئی کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں ملازمین کے لیے یہ کمی محض علامتی نہیں، بلکہ ان کے ماہانہ سفری اخراجات میں ایک بڑی بچت ثابت ہوگی۔
کمیٹی کا یہ فیصلہ عالمی منڈی کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ اپریل کے اواخر میں برینٹ کروڈ 80 ڈالر فی بیرل کی سطح برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا رہا۔ بڑی عالمی معیشتوں میں مینوفیکچرنگ ڈیٹا کی سست روی اور امریکہ میں تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے نے قیمتوں کو نیچے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، حالانکہ جغرافیائی سیاسی تناؤ اب بھی برقرار ہے۔
ایک علاقائی ماہرِ توانائی نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "مارکیٹ اب اضافی رسد (Surplus) کو قبول کر رہی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ تیل کی سپلائی دوسری سہ ماہی کی طلب سے زیادہ رہی، اور اماراتی پرائسنگ کمیٹی نے اسی زمینی حقیقت کو قیمتوں میں منتقل کیا ہے۔”
متحدہ عرب امارات نے 2015 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی مارکیٹ سے منسلک (ڈی ریگولیٹ) کیا تھا، جس کے بعد سے یہ ماہانہ اعلان معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم اشاریہ بن چکا ہے۔ 2022 اور 2023 کی ریکارڈ قیمتوں کے مقابلے میں 2026 اب تک صارفین کے لیے نسبتاً مستحکم رہا ہے۔
اس فیصلے کا سب سے بڑا فائدہ لاجسٹکس اور ڈلیوری کمپنیوں کو پہنچے گا۔ ڈیزیل کی قیمت میں 15 فلس کی کمی سے بھاری ٹرانسپورٹ کے آپریشنل اخراجات کم ہوں گے، جس کا اثر بالآخر روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے، اگرچہ اس عمل میں عموماً کچھ وقت لگتا ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق آج آدھی رات سے ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپوں پر ہو جائے گا۔ توقع ہے کہ قیمتوں میں کمی کے باعث پیٹرول پمپوں پر آج رات لگنے والی قطاریں ماضی کے مقابلے میں کم ہوں گی کیونکہ صارفین کو معلوم ہے کہ کل سے ایندھن سستا ملنا یقینی ہے۔
