مغل دور کا ایک نایاب اور غیر معمولی فلکیاتی آلہ، جسے بعض ماہرین تاریخی تناظر میں ’سپر کمپیوٹر‘ بھی قرار دیتے ہیں، نیلامی میں ریکارڈ قیمت پر فروخت ہو گیا۔ یہ آلہ دراصل ایک عظیم الجثہ اصطرلاب ہے، جو کبھی بھارتی شاہی خاندان کی ملکیت رہا تھا۔ سوتھبیز میں ہونے والی نیلامی میں یہ نادر شے تقریباً 27 لاکھ 50 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی، اور اس کے ساتھ ہی اصطرلاب کی نیلامی کی دنیا میں ایک نئی ریکارڈ قیمت قائم ہوگئی۔
یہ اصطرلاب جدید کمپیوٹر نہیں، مگر اپنے زمانے میں حساب، وقت کے تعین، ستاروں کی پوزیشن جاننے، سمت معلوم کرنے اور فلکیاتی مشاہدات کے لیے ایک نہایت ترقی یافتہ سائنسی آلہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اسے استعارۃً ایک قدیم “سپر کمپیوٹر” کہا جاتا ہے۔
سوتھبیز کے مطابق یہ اصطرلاب 1612 میں لاہور میں تیار کیا گیا تھا۔ اسے مشہور ماہر کاریگروں قائم محمد اور محمد مقیم نے بنایا، اور یہ مغل شہنشاہ جہانگیر کے عہد میں ایک بااثر درباری آقا افضل کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ نیلامی گھر نے اسے ان دونوں کاریگروں کی مشترکہ تخلیق کے صرف دو معروف نمونوں میں سے ایک قرار دیا۔
اس کی غیر معمولی اہمیت صرف اس کی عمر یا نفاست میں نہیں، بلکہ اس کے حجم اور پس منظر میں بھی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق یہ اصطرلاب تقریباً 18 انچ اونچا ہے اور اس کا وزن 18 پاؤنڈ سے زیادہ ہے، جو اسے اپنے عہد کے عام اصطرلابوں سے کہیں بڑا بناتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہ شاید اپنی نوعیت کا سب سے بڑا محفوظ نمونہ ہے۔
اس تاریخی آلے کی شاہی ملکیت نے بھی اس کی قدر میں اضافہ کیا۔ یہ بعد میں جے پور کے مہاراجہ سوائی مان سنگھ دوم کے ذخیرے میں شامل رہا، پھر مہارانی گایتری دیوی کے پاس گیا، اور آخرکار لندن کے ایک نجی ذخیرے تک پہنچا۔ یہی نسبت، یعنی مغل سائنس، شاہی سرپرستی اور نوآبادیاتی دور کے بعد کی نجی ملکیت، اس اصطرلاب کو ایک غیر معمولی تاریخی شے بناتی ہے۔
اس آلے پر 38 ستاروں اور 94 شہروں کے نام کندہ ہیں، جن میں لاہور، کشمیر، اجمیر، بیجاپور اور مکہ بھی شامل ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض آرائش کے لیے تیار کی گئی چیز نہیں تھی، بلکہ ایک فعال سائنسی آلہ تھا، جو اس دور میں برصغیر کی علمی اور فنی مہارت کا ثبوت بھی ہے۔
یہ فروخت صرف ایک مہنگی نیلامی نہیں، بلکہ ایک بڑے رجحان کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ اب تاریخی سائنسی آلات کو محض عجائب یا فنی نوادرات نہیں، بلکہ عالمی ثقافتی ورثے کے اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس اصطرلاب کی ریکارڈ قیمت اس بات کا اشارہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی سائنسی اور تہذیبی میراث عالمی منڈی میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
