وزیراعظم شہباز شریف نے موٹرسائیکل سواروں، عوامی ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے لیے دی گئی ایندھن سبسڈی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو عام آدمی تک منتقل ہونے سے روکنا اور کرایوں کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات کو قابو میں رکھنا ہے۔
یہ فیصلہ ایک جائزہ اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیراعظم نے خود کی۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ سبسڈی کے باوجود مسافر کرایوں اور مال برداری کے نرخوں میں اضافہ نہ ہونے دیا جائے، اور اس سلسلے میں نگرانی کا مؤثر نظام قائم رکھا جائے۔
حکومت نے یہ ریلیف پہلی بار اپریل میں متعارف کرایا تھا، جب ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوامی دباؤ بڑھنے لگا تھا۔ اس پیکج کے تحت موٹرسائیکل سواروں کے لیے فی لیٹر 100 روپے تک رعایت کا اعلان کیا گیا، جبکہ عوامی ٹرانسپورٹ اور سامان بردار گاڑیوں کے لیے الگ مالی امداد مقرر کی گئی تاکہ سفری کرایوں اور ترسیلی اخراجات میں فوری اضافہ نہ ہو۔
رپورٹس کے مطابق اس امدادی نظام میں چھوٹے ٹرکوں کے لیے ماہانہ 70 ہزار روپے، بڑے مال بردار ٹرکوں کے لیے 80 ہزار روپے اور پبلک سروس بسوں کے لیے 100 ہزار روپے ماہانہ مختص کیے گئے تھے۔ حکومت کی کوشش یہ ہے کہ ٹرانسپورٹ لاگت میں اضافہ مہنگائی کی نئی لہر میں تبدیل نہ ہو، خاص طور پر ایسے وقت میں جب گھریلو بجٹ پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے۔
اس پروگرام کا ایک اہم پہلو امدادی رقم کی ڈیجیٹل تقسیم بھی ہے۔ حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ رقوم ڈیجیٹل بٹوؤں کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ شفافیت بہتر ہو، ادائیگیاں تیز ہوں اور روایتی نظام میں پائی جانے والی رکاوٹوں یا بے ضابطگیوں کو کم کیا جا سکے۔ یہی نکتہ اس اسکیم کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔
سیاسی اور معاشی لحاظ سے بھی اس توسیع کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت بظاہر یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا پورا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا جائے گا، خاص طور پر ان طبقات پر جو روزانہ آمدورفت یا روزگار کے لیے موٹرسائیکل اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر انحصار کرتے ہیں۔
اب اصل سوال عمل درآمد کا ہے۔ سبسڈی کا اعلان اپنی جگہ، لیکن عوام کو حقیقی ریلیف اسی وقت ملے گا جب کرایوں میں اضافہ رکے، مال برداری کے نرخ قابو میں رہیں، اور امدادی رقم واقعی مستحقین تک پہنچے۔ حکومت کے لیے اگلا امتحان یہی ہے کہ وہ اس ریلیف کو صرف اعلان تک محدود نہ رہنے دے بلکہ اس کے اثرات بازار اور سڑک دونوں جگہ محسوس ہوں۔
