پاکستان میں بجلی کے صارفین پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ حکومت نے بجلی کے بنیادی نرخوں میں 1.20 روپے فی یونٹ اضافے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اطلاق ملک بھر میں فوری طور پر متوقع ہے۔
یہ اضافہ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے ابھی باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، لیکن اس اقدام کا مقصد پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں اور بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے درمیان مالی خلا کو پُر کرنا ہے۔ مہنگائی کی موجودہ لہر کے شکار عام شہریوں کے لیے یہ اضافہ ان کے ماہانہ بجٹ پر ایک اور کاری ضرب ثابت ہوگا۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں بار بار ہونے والا اضافہ تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ٹرانسمیشن سسٹم میں نقصانات اور ریکوری کی شرح میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ وقت پر بل ادا کرنے والے صارفین دراصل سسٹم کی خرابیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
اس شعبے کے ایک کنسلٹنٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "سسٹم مسلسل مالی نقصان کا شکار ہے۔ جب بھی حکومت بنیادی ڈھانچے کی اصلاح میں ناکام ہوتی ہے، تو وہ ٹیرف بڑھانے کا آسان راستہ اختیار کر لیتی ہے۔ یہ نظام کی گہری خرابیوں پر صرف ایک وقتی مرہم ہے۔”
یہ مجوزہ اضافہ ان ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کا تسلسل ہے جس نے بجلی کی قیمتوں کو متوسط طبقے کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ صنعت کاروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ ٹیرف میں یہ اضافہ ملکی برآمدات کی مسابقت کو عالمی منڈی میں شدید متاثر کرے گا، کیونکہ بجلی مینوفیکچرنگ کے اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
وزارتِ توانائی کا موقف ہے کہ یہ ایڈجسٹمنٹس بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹیرف میں وقتاً فوقتاً اضافہ نہ کیا گیا تو بجلی کی سپلائی کا پورا سلسلہ خطرے میں پڑ جائے گا، جس سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
عام صارفین کے پاس اب گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ زندگی گزارنے کے اخراجات پہلے ہی حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں، اور 1.20 روپے فی یونٹ کا اضافی بوجھ بہت سے خاندانوں کو بنیادی ضروریات میں کٹوتی کرنے پر مجبور کر دے گا۔
اب نگاہیں اس بات پر ہیں کہ کیا حکومت غریب صارفین کے لیے کسی ریلیف کا اعلان کرے گی، یا پھر ادائیگی کی استطاعت دیکھے بغیر یہ بوجھ سب پر یکساں ڈال دیا جائے گا۔
