Chronic Traumatic Encephalopathy (CTE) ایک دماغی بیماری ہے جو بار بار سر پر چوٹ یا جھٹکے لگنے سے منسلک ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ایسے افراد میں دیکھا گیا ہے جنہیں کھیلوں یا دیگر حالات میں بار بار سر پر ضربیں لگنے کا سامنا رہا ہو۔
CTE کی تشخیص میں مشکل
اس وقت CTE کی حتمی تشخیص صرف موت کے بعد دماغ کے ٹشو کا معائنہ کرکے کی جا سکتی ہے۔ زندہ افراد میں ڈاکٹر عموماً سر پر بار بار لگنے والی چوٹوں کی تاریخ اور علامات کو دیکھتے ہیں اور دوسری ممکنہ بیماریوں کو خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ محققین ایک ایسے قابلِ اعتماد ٹیسٹ کی تلاش میں ہیں جس سے CTE کو زندگی میں ہی شناخت کیا جا سکے۔
نئی تحقیق کیا بتاتی ہے؟
2026 میں شائع ہونے والی ایک ماہرین کی رپورٹ میں CTE کے لیے نئے biomarkers یعنی ایسے حیاتیاتی اشاروں کی تلاش کو اہم قرار دیا گیا ہے جو بیماری کی شناخت میں مدد دے سکیں۔ تحقیق میں دماغ کی امیجنگ، خون اور دیگر جسمانی سیالوں سے حاصل ہونے والے ممکنہ biomarkers پر توجہ دی گئی ہے۔
محققین خاص طور پر CTE سے متعلق tau protein کی مخصوص تبدیلیوں کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ایسا biomarker کامیابی سے تیار اور تصدیق شدہ ہو جائے تو مستقبل میں CTE کی تشخیص کے لیے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
دماغی اسکین اور خون کے ٹیسٹ
MRI اور PET جیسے brain-imaging طریقوں پر بھی تحقیق جاری ہے۔ سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا دماغ میں ہونے والی مخصوص تبدیلیوں کو CTE سے جوڑا جا سکتا ہے۔ اسی طرح خون اور cerebrospinal fluid کے biomarkers کا بھی مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی تک ان میں سے کوئی طریقہ CTE کی حتمی تشخیص کے لیے مکمل طور پر ثابت شدہ نہیں ہے۔
تحقیق سے امید کیوں پیدا ہوئی؟
نئی تحقیق اس لیے اہم ہے کیونکہ CTE کی زندگی میں قابلِ اعتماد تشخیص بیماری کو بہتر طور پر سمجھنے، اس کی نگرانی کرنے اور مستقبل میں ممکنہ علاج تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ CTE-specific biomarkers کی دریافت اس شعبے میں ایک اہم اگلا قدم ہے۔
نتیجہ
CTE کی حتمی تشخیص اب بھی موت کے بعد دماغ کے معائنے سے ہی ممکن ہے، لیکن نئی تحقیق اس بیماری کو زندہ افراد میں شناخت کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ Biomarkers، MRI، PET اور جسمانی سیالوں پر ہونے والی تحقیق مستقبل میں زیادہ درست تشخیصی طریقے فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان طریقوں کو قابلِ اعتماد طبی ٹیسٹ بنانے کے لیے مزید تحقیق اور تصدیق ضروری ہے۔
