مون سون کی مسلسل بارشوں کے باعث موٹر وے پولیس نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور اہم شاہراہوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ بالخصوص ایم-1، ایم-2 اور ایم-5 پر حد نگاہ انتہائی کم ہونے کے باعث حادثات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
شمالی اور وسطی علاقوں میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے جاری موسلادھار بارشوں کے تھمنے کے آثار نہیں ہیں۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے گاڑیوں کے پھسلنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں منگل کی صبح سے اب تک کئی چھوٹی بڑی ٹکریں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ڈرائیورز اب بھی سڑکوں کو خشک موسم کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ وہ گاڑیوں کے ٹائروں کی گرفت کم ہونے کے باوجود رفتار میں کمی نہیں لا رہے۔ اگر سفر ناگزیر نہیں ہے تو گھر پر رہنا ہی سب سے محفوظ آپشن ہے۔”
کنٹرول روم کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تیز رفتاری کے باعث پیش آنے والے واقعات گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں دوگنا ہو چکے ہیں۔ موٹر وے پر نصب ڈیجیٹل اسکرینز پر رفتار کم رکھنے کے انتباہ کے باوجود ڈرائیورز گاڑیوں کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے میں ناکام ہیں۔ موٹر وے پولیس نے گشت بڑھا دی ہے، تاہم حکام کا ماننا ہے کہ صرف جرمانوں سے حادثات نہیں رکیں گے جب تک ڈرائیورز خود احتیاطی تدابیر اختیار نہ کریں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ موٹر وے پر آنے والی ہر گاڑی کے لیے فوگ لائٹس کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ ٹول پلازوں پر ناقص لائٹس والی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
شمالی علاقوں کی موٹر ویز پر بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی برقرار ہے۔ اگرچہ صفائی کرنے والی ٹیمیں الرٹ ہیں، لیکن پہاڑی علاقوں کی غیر متوقع صورتحال کے پیش نظر کسی بھی وقت راستے بند کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرینِ انفراسٹرکچر کا کہنا ہے کہ ایم-2 کے کئی حصوں میں نکاسی آب کا نظام پرانا ہو چکا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اگرچہ مرمت کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن بارش کی حالیہ شدت نے نکاسی کے نظام کو مفلوج کر دیا ہے جس کے باعث سڑکیں گھنٹوں زیرِ آب رہتی ہیں۔
جنہیں سفر کرنا ہی ہے، انہیں پولیس نے مشورہ دیا ہے کہ روانگی سے قبل کی موبائل ایپ پر تازہ ترین صورتحال چیک کریں، ہیڈ لائٹس آن رکھیں اور معمول سے دگنا وقت لے کر نکلیں۔ بارش کی شدت بڑھنے کی صورت میں پولیس کسی بھی سیکٹر کو مکمل بند کر سکتی ہے تاکہ بڑے حادثات کو روکا جا سکے۔
