کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں ایک خاندان نے نجی ہسپتال پر نوزائیدہ بچے کو اغوا کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ ہسپتال انتظامیہ نے سرے سے کسی بھی بچے کی پیدائش کی تردید کر دی ہے۔
متاثرہ خاندان کا مؤقف ہے کہ خاتون کو منگل کی رات شدید دردِ زہ کی حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا۔ والد کے مطابق، خاتون کو داخل کر کے طبی امداد دی گئی اور کچھ دیر بعد ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ تاہم، چند گھنٹے گزرنے کے بعد ہسپتال کے عملے نے یہ کہہ کر انہیں حیران کر دیا کہ نہ تو خاتون کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ حاملہ تھیں۔
بدھ کی صبح صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب لواحقین نے ہسپتال کے باہر احتجاج شروع کر دیا اور سڑک بلاک کر دی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اسی ہسپتال کی جاری کردہ الٹراساؤنڈ رپورٹس اور میڈیکل فائلز موجود ہیں جو حمل کی تصدیق کرتی ہیں۔
متاثرہ والد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ہمارے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں، ہم نے داخلے کی فیس ادا کی، اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم یہاں آئے ہی نہیں تھے۔”
پولیس نے موقع پر پہنچ کر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو حراست میں لے لیا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اب ہسپتال کے لیبر روم کا ریکارڈ، داخلہ رجسٹر اور سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لے رہی ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا خاتون کو واقعی طبی امداد دی گئی تھی یا نہیں۔
دوسری جانب، ہسپتال انتظامیہ اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ خاتون پیٹ میں درد کی شکایت لے کر آئی تھیں، لیکن طبی معائنے کے دوران حمل یا بچے کی پیدائش کے کوئی آثار نہیں ملے۔ انتظامیہ نے اس واقعے کو ہسپتال سے بھتہ وصول کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔
اس کیس کا فیصلہ اب ہسپتال کے ریکارڈ کی فرانزک آڈٹ پر منحصر ہے۔ اگر ریکارڈ میں تضاد پایا گیا یا طبی معائنے سے بچے کی پیدائش ثابت ہوئی تو ہسپتال کی انتظامیہ کو سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں لائسنس کی منسوخی بھی شامل ہے۔
خاتون کو فی الحال طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ آیا وہ حالیہ زچگی کے عمل سے گزری ہیں یا نہیں۔ تحقیقات جاری ہیں۔
