کھٹمنڈو — نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد جاری امدادی سرگرمیاں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے وسطی اور مغربی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کے باعث ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا عمل شدید متاثر ہو رہا ہے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹرز کی پروازیں روک دی گئی ہیں، جس سے دور دراز پہاڑی علاقوں تک رسائی ناممکن ہو گئی ہے۔
تباہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت کھٹمنڈو کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی اہم شاہراہ ‘پریتھوی ہائی وے’ کئی مقامات سے دریائے تریشولی میں بہہ گئی ہے۔ ہزاروں مسافر پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں خوراک، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
مقامی لوگ حکومتی اقدامات پر برہم ہیں۔ دھادنگ اور کاورے پالان چوک کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں سے وہ اپنے ہاتھوں اور معمولی اوزاروں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں، لیکن بھاری مشینری تاحال نہیں پہنچی۔ ایک مقامی دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "حکومت نے کل ہیلی کاپٹرز کا وعدہ کیا تھا، لیکن آسمان خالی ہے۔ ہمیں وعدوں کی نہیں، فوری مدد کی ضرورت ہے۔”
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ مون سون کا موسم اب اپنے اختتام کی جانب ہے، تاہم بدلتے ہوئے موسمیاتی پیٹرن کے باعث بارشوں کی شدت اور غیر یقینی پن میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صرف ایک موسمیاتی واقعہ نہیں بلکہ انفراسٹرکچر کا وہ بحران ہے جس کا سامنا کرنے کے لیے موجودہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا نظام ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔
فی الحال، ریسکیو ٹیمیں موسم کے بہتر ہونے کی منتظر ہیں۔ اگر بادل چھٹے تو تلاش کا کام دوبارہ شروع ہوگا، لیکن اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو امدادی کارکنوں کو بھی اپنی جانیں بچانے کے لیے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑے گا۔ اس صورتحال میں ملبے تلے دبے سیکڑوں خاندانوں کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
