یورپ اس وقت اپنی تاریخ کی بدترین خشک سالی کی لپیٹ میں ہے۔ رائن سے لے کر دریائے پو تک، براعظم کی اہم آبی گزرگاہیں سکڑ کر رہ گئی ہیں، جس نے تجارتی نقل و حمل، توانائی کی پیداوار اور زرعی شعبے کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔
جرمنی کی صنعتی شہ رگ سمجھے جانے والے دریائے رائن میں پانی کی سطح اتنی گر چکی ہے کہ مال بردار جہاز اپنی مکمل گنجائش سے بہت کم سامان لے جانے پر مجبور ہیں۔ کوئلے اور خام مال کی ترسیل میں رکاوٹ نے پہلے ہی مہنگائی کے شکار یورپی ممالک کی صنعتوں کی کمر توڑ دی ہے۔ یہ محض سپلائی چین کا مسئلہ نہیں، بلکہ یورپی معیشت کے لیے ایک براہِ راست خطرہ بن چکا ہے۔
اٹلی کے زرعی علاقوں کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ دریائے پو کا طاس، جسے ملک کی اناج کی ٹوکری کہا جاتا ہے، اب بنجر زمین میں بدل رہا ہے۔ نمکین پانی سمندر کی جانب سے اندرونی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، جو زرخیز زمین کو زہر آلود کر رہا ہے۔ یورپی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق، براعظم کی تقریباً نصف زمین اس خشک سالی سے متاثر ہے، جس کے نتیجے میں مکئی اور سورج مکھی جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔
توانائی کا بحران اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ فرانس کے جوہری پلانٹس، جو ٹھنڈک کے لیے دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، پیداوار کم کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح الپس کے پہاڑی سلسلوں میں پن بجلی کی پیداوار میں بھی غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے، جس سے موسم سرما سے قبل یورپ کے لیے توانائی کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ریکارڈ توڑ گرمی نے زمین کو اس قدر خشک کر دیا ہے کہ اب معمولی بارش بھی جذب نہیں ہو پاتی۔ یہ ‘فلیش ڈراٹ’ کی کیفیت ہے جہاں چند گھنٹوں کی بارش زمین کی گہرائیوں میں موجود پانی کے ذخائر کو بھرنے کے لیے ناکافی ہے۔
مختلف یورپی حکومتیں ہنگامی بنیادوں پر پانی کے استعمال پر پابندیاں لگا رہی ہیں، لیکن یہ اقدامات محض عارضی ثابت ہو رہے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کے لیے یہ صرف ایک ماحولیاتی انتباہ نہیں، بلکہ ان کی روزمرہ زندگی کا ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے، جہاں نلکے سوکھ رہے ہیں اور فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یورپ کا روایتی موسم بدل چکا ہے اور براعظم اس نئی اور شدید ماحولیاتی حقیقت کے لیے تیار نہیں ہے۔
