ماہرینِ صحت طویل عرصے سے گرمی کے خطرات کو پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک تک محدود سمجھتے رہے ہیں۔ لیکن حالیہ طبی اعداد و شمار ایک زیادہ تشویشناک حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں؛ شدید گرمی ضعیف العمری میں انسانی جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے نظام کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیتی ہے، جس کے اثرات فوری طبی بحران کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
65 برس سے زائد عمر کے افراد کے لیے ’خطرناک گرمی‘ کی حد اس سے کہیں کم ہے جو عمومی طور پر سمجھی جاتی ہے۔ ایک جوان انسان کا جسم پسینے اور خون کی گردش کے ذریعے درجہ حرارت کو متوازن رکھ سکتا ہے، مگر 80 سالہ عمر میں انسانی دل اور اعصابی نظام میں وہ لچک باقی نہیں رہتی۔ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے، تو بزرگوں کے دل کی دھڑکن نہ صرف تیز ہوتی ہے بلکہ اسے جلد کو ٹھنڈا رکھنے اور اہم اعضاء کو خون پہنچانے کے دوہرے دباؤ کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جس سے جسمانی نظام بیٹھنے لگتا ہے۔
اس عمل میں جلد کا کردار کلیدی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ پسینے کے غدود کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے، جس سے جسم ایک ’تھرمل ٹریپ‘ یا گرمی کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ اندرونی درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا ہے اور طویل وقت تک برقرار رہتا ہے، جس کا براہِ راست اثر گردوں اور دل پر پڑتا ہے۔
ماہرِ امراضِ معمرین ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں: "ہم گرمی کو صرف ہیٹ اسٹروک کی حد تک دیکھتے تھے، لیکن اب یہ ایک ’ایکسیلریٹر‘ کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ یہ ہائی بلڈ پریشر یا گردوں کے معمولی مرض میں مبتلا مریض کو چند گھنٹوں کے اندر شدید طبی بحران میں دھکیل سکتی ہے۔”
ہسپتالوں کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کے 24 گھنٹوں کے اندر دل، سانس اور فالج کے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ نہیں ہوتے جو دھوپ میں کام کر رہے ہوں، بلکہ وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ان کے اعضاء آہستہ آہستہ جواب دے رہے ہوتے ہیں۔ اکثر دیکھ بھال کرنے والے اسے محض تھکن یا معمولی بیماری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
شہری منصوبہ بندی میں کوتاہی اس خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ کثیر المنزلہ عمارتیں اور پرانے مکانات دن بھر گرمی جذب کر لیتے ہیں اور رات کو بھی ٹھنڈے نہیں ہوتے۔ جب جسم کو رات کے وقت بھی سکون نہیں ملتا، تو اعضاء پر پڑنے والا دباؤ ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔
ہماری صحت کی پالیسیاں اب بھی عام آبادی کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔ کولنگ سینٹرز تک پہنچنے کے لیے نقل و حرکت ضروری ہے، جو بہت سے بزرگوں کے لیے ممکن نہیں۔ گرمی اب صرف موسم کی شدت نہیں، بلکہ ایک جسمانی چیلنج بن چکی ہے۔ جب تک ہم گرمی کے بڑھتے ہوئے اثرات کو بزرگوں کی مخصوص طبی ضروریات کے تناظر میں نہیں دیکھیں گے، ایمبولینسوں کا انتظار کرنا ہی واحد حل رہ جائے گا۔
