اوٹاوا/واشنگٹن: کینیڈا کے شہریّت کے قوانین، خاص طور پر “citizenship-by-descent” کے فریم ورک سے متعلق جاری بحث اور ممکنہ تبدیلیوں نے بیرونِ ملک افراد، خصوصاً ایسے امریکی شہریوں کی دلچسپی دوبارہ بڑھا دی ہے جن کے خاندان کا تعلق کینیڈا سے ہے، امیگریشن سے متعلق رپورٹس اور مباحث کے مطابق۔
موجودہ کینیڈین قانون کے تحت، جو افراد کینیڈا سے باہر پیدا ہوتے ہیں وہ بعض صورتوں میں اپنے کینیڈین والدین کے ذریعے شہریّت حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم طویل عرصے سے موجود ایک اصول، جسے “first-generation limit” کہا جاتا ہے، عام طور پر اس بات کو محدود کرتا ہے کہ شہریّت صرف پہلی نسل تک ہی خودکار طور پر منتقل ہو سکتی ہے جو بیرونِ ملک پیدا ہوئی ہو۔
گزشتہ چند برسوں میں کینیڈا کی حکومت نے اس نظام میں موجود خلا کو دور کرنے کے لیے اصلاحات اور وضاحتوں پر غور کیا ہے، خاص طور پر ان کیسز میں جہاں کینیڈین شہری یا نیچرلائزڈ افراد بیرونِ ملک بچے پیدا کرتے ہیں۔ قانونی چیلنجز اور پالیسی ریویوز نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ شہریّت کے قوانین کو جدید حالات کے مطابق کیسے ڈھالا جائے۔
کچھ امریکی شہریوں میں بھی اس ممکنہ اہلیت کے حوالے سے دلچسپی بڑھی ہے جن کا خیال ہے کہ ان کا تعلق والدین یا دادا دادی کے ذریعے کینیڈا سے ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد عام طور پر “citizenship certificate” کے لیے درخواست دیتے ہیں تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ وہ پہلے سے کینیڈین شہری شمار ہوتے ہیں یا نہیں۔
کینیڈین حکام یہ درخواستیں Immigration, Refugees and Citizenship Canada (IRCC) کے ذریعے پروسیس کرتے ہیں، اور وقتِ تکمیل کیس کی نوعیت اور دستاویزات پر منحصر ہوتا ہے۔
اگرچہ شہریّت کے اس نظام میں تبدیلی یا توسیع سے متعلق بحث جاری ہے، لیکن اب تک کوئی ایسی باضابطہ اور حتمی ملک گیر تبدیلی نافذ نہیں کی گئی جس کے تحت متعدد نسلوں تک خودکار شہریّت دی جاتی ہو۔
ماہرین کے مطابق اہلیت کا انحصار مکمل طور پر فرد کی خاندانی تاریخ، دستاویزات اور موجودہ قانونی شرائط پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی عمومی یا خودکار قانون سازی پر۔
