چیسٹر چڑیا گھر میں اس ہفتے ایک نر روتھشیلڈ جراف کی آمد نے دنیا کے نایاب ترین جرافوں میں شمار ہونے والی اس نسل کی بقا کی کوششوں کو ایک نئی سمت دی ہے۔ چھ سالہ ’ٹیسا‘ کو جرمنی کے ایک مرکز سے خصوصی طور پر لایا گیا ہے تاکہ بریڈنگ پروگرام کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
ماہرینِ حیاتِ وحش کے نزدیک ٹیسا کی منتقلی محض ایک جانور کی نقل و حمل نہیں، بلکہ جینیاتی تنوع کو بچانے کی ایک حکمت عملی ہے۔ دنیا بھر میں روتھشیلڈ جراف کی تعداد 3,000 سے بھی کم رہ گئی ہے، اور چڑیا گھروں میں موجود ان کی آبادی میں جینیاتی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔ ٹیسا کا نیا خون اس نسل میں بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت اور بہتر افزائشِ نسل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
چڑیا گھر کی لیڈ کیپر سارہ مچل کہتی ہیں، "ہم صرف ایک جانور کو منتقل نہیں کر رہے، بلکہ اس نسل کا مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں۔ یہاں ہونے والی ہر کامیاب پیدائش معدومیت کے خلاف ایک ڈھال کا کام کرے گی۔”
روتھشیلڈ جراف کی پہچان اس کے گھٹنوں سے نیچے کے حصے پر دھبوں کا نہ ہونا ہے، جس سے ایسا لگتا ہے جیسے اس نے سفید موزے پہنے ہوں۔ یوگنڈا اور کینیا میں ان کی آبادی کا بڑا حصہ شکار اور قدرتی مسکن کی تباہی کے باعث ختم ہو چکا ہے۔ اگرچہ افریقہ میں حکومتی سطح پر ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن عالمی سطح پر چڑیا گھروں میں موجود یہ گروہ ایک ‘سیفٹی نیٹ’ کی حیثیت رکھتا ہے۔
ٹیسا کو چڑیا گھر کی مادہ جرافوں کے ساتھ ملانے کا عمل انتہائی محتاط انداز میں جاری ہے۔ جراف سماجی جانور تو ہیں مگر وہ اپنے ساتھیوں کے انتخاب میں کافی سخت مزاج واقع ہوئے ہیں۔ اگر جوڑا نہ بن سکا، تو بریڈنگ کا عمل مہینوں تک التواء کا شکار ہو سکتا ہے۔
سارہ مچل نے اس بارے میں کہا، "یہ ایک صبر آزما عمل ہے۔ ہم زبردستی جوڑا نہیں بناتے، بس ایک ایسا ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں وہ خود فیصلہ کر سکیں۔”
چڑیا گھر کی انتظامیہ نے ٹیسا کو فی الحال عوامی نمائش سے دور رکھا ہے تاکہ وہ مقامی خوراک اور آب و ہوا سے پوری طرح مانوس ہو سکے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا، تو اس نئے جینیاتی تسلسل سے پہلا بچہ اگلے سال تک متوقع ہے۔
فی الحال تمام تر توجہ ان کی باڑ کے اندر کی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔ کیا یہ آمد طویل مدتی آبادی میں اضافے کا باعث بنے گی؟ اس کا جواب آنے والے مہینوں میں ملے گا، مگر کنزرویشن ٹیم کے لیے ایک نر جراف کا اضافہ گزشتہ ایک دہائی کی سب سے بڑی پیش رفت ہے۔
