نئی دہلی — بھارت میں ڈاکٹری کے خواہشمند طلبہ کے لیے ’نیٹ-یو جی‘ کا امتحان کبھی ایک سنہری موقع سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ نظام کی ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔ پیپر لیک کے الزامات اور امتحان کے نتائج میں غیر معمولی اضافے کے بعد ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان کے غصے کے پیچھے دھوکہ دہی کا وہ احساس ہے جس نے ان کی محنت کو بے معنی کر دیا ہے۔
اٹھارہ سالہ انجلی کے لیے دباؤ صرف مقابلے تک محدود نہیں تھا۔ یہ وہ کرب تھا جس نے اسے یہ سمجھنے پر مجبور کیا کہ اس کی برسوں کی محنت ایک دھاندلی زدہ نظام کے سامنے ریت کی دیوار ہے۔ جب پیپر لیک کی خبریں سامنے آئیں، تو انجلی نے صرف ایک سیٹ نہیں کھوئی، بلکہ اس نے میرٹ پر اپنا یقین بھی کھو دیا۔ دو دن بعد، وہ اپنے کمرے میں مردہ پائی گئی۔ اس کے والدین نے دکھ اور غصے میں واضح کہا: ’’اس کے خوف نے اسے مار ڈالا۔‘‘
یہ احتجاج صرف ان 67 طلبہ کے بارے میں نہیں ہے جنہوں نے معجزاتی طور پر 720 میں سے 720 نمبر حاصل کیے۔ یہ ان لاکھوں طلبہ کی لڑائی ہے جنہوں نے تنگ کمروں میں بیٹھ کر سالوں تیاری کی، صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ امتحان کا تقدس کیسے خاک میں مل گیا۔ دہلی، پٹنہ اور کوٹا میں طلبہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں اور نتائج کی مکمل چھان بین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
NTA نے ابتدائی طور پر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’اکا دکا واقعات‘‘ قرار دیا۔ یہ جواب جلتی پر تیل ثابت ہوا۔ جب ایجنسی نے اعتراف کیا کہ وقت کے نقصان کے ازالے کے لیے ’’گریس مارکس‘‘ دیے گئے—ایک ایسی پالیسی جو ان کے اپنے سرکاری ضوابط کے منافی تھی—تو اعتماد کا بحران ایک گہری خلیج میں بدل گیا۔
تیسری بار امتحان میں حصہ لینے والے راہول، جو کے ہیڈ کوارٹر کے باہر احتجاج کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’’انہوں نے ہماری زندگیوں کے ساتھ کھیلا ہے۔ ہم اب صرف ایک سیٹ کے لیے نہیں لڑ رہے۔ ہم اس لیے لڑ رہے ہیں تاکہ اگلی نسل کو اس جہنم سے نہ گزرنا پڑے۔‘‘
بہار میں پولیس کی تحقیقات نے پیپر لیک کی گہرائی کو بے نقاب کیا ہے۔ جلے ہوئے سوالیہ پرچے اور لاکھوں روپے کے عوض پرچے بیچنے والے گروہوں کا نیٹ ورک یہ ثابت کرتا ہے کہ خرابی صرف سافٹ ویئر میں نہیں، بلکہ پورے ڈھانچے میں ہے۔
سپریم کورٹ میں امتحان منسوخ کرنے کی درخواستوں پر سماعت جاری ہے، اور حکومت دفاعی پوزیشن میں ہے۔ وزارتِ تعلیم نے کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا ہے، مگر فٹ پاتھوں پر ڈیرے ڈالے طلبہ کے لیے یہ وعدے بے معنی ہیں۔
یہ احتجاج اب صرف امتحان ہال تک محدود نہیں رہا۔ یہ اس بات کا ریفرنڈم بن چکا ہے کہ کیا یہ نظام ان لوگوں کو انصاف فراہم کر سکتا ہے جو اصولوں کے مطابق چلتے ہیں۔ اگر حکومت نے اس گند کو صاف نہ کیا، تو اگلی نسل کے ڈاکٹر شاید صرف مایوس ہی نہیں ہوں گے، بلکہ وہ اس نظام سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کر لیں گے۔
