شمال مشرقی انگلینڈ کے عوامی پارکس رواں برس ملک بھر میں ملنے والے ‘گرین فلیگ’ ایوارڈز کی دوڑ میں سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار خطے میں عوامی مقامات کی دیکھ بھال کے معیار میں پیدا ہونے والے وسیع فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔
گرین فلیگ اسکیم، جو پارکوں کو ان کی حفاظت، صفائی ستھرائی اور عوامی شمولیت کی بنیاد پر پرکھتی ہے، مقامی کونسلوں کی کارکردگی کا پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ لندن اور نارتھ ویسٹ کے پارکس کی مسلسل کامیابی کے مقابلے میں، نارتھ ایسٹ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ نیو کیسل، سنڈر لینڈ اور مڈلزبرو جیسے شہروں کے رہائشیوں کے لیے یہ ایوارڈز محض جھنڈے نہیں، بلکہ پارکوں کے سکڑتے ہوئے بجٹ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
خطے کی مقامی انتظامیہ کو مرکزی حکومت کی طرف سے ملنے والی فنڈنگ میں کمی کے باعث پارکوں کی دیکھ بھال کے بجائے لازمی خدمات کو ترجیح دینا پڑ رہی ہے۔ اس کا نتیجہ پارکوں کی خستہ حالی کی صورت میں نکل رہا ہے؛ کہیں پھولوں کی کیاریاں غائب ہیں، تو کہیں بچوں کے جھولے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
ایک مقامی سماجی کارکن نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "یہ گراوٹ کوئی حادثہ نہیں ہے۔ یہ ایک دہائی پر محیط کفایت شعاری کی پالیسی کا براہِ راست نتیجہ ہے، جس نے مقامی کونسلوں سے ان عوامی مقامات کو معیاری بنانے کی صلاحیت چھین لی ہے۔”
اگرچہ گرین فلیگ کا حصول رضاکارانہ ہے، لیکن یہ اس بات کا معیار ہے کہ ایک بہترین اور قابل رسائی پارک کیسا ہونا چاہیے۔ اس اعزاز سے محرومی کا مطلب ہے کہ کونسلیں ان گرانٹس اور سرمایہ کاری سے بھی محروم رہ جاتی ہیں جو پارک کی بہتر ساکھ کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں۔
یہ فرق علاقائی مساوات پر بھی سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ‘لیولنگ اپ’ (ترقی میں توازن) کے دعووں کے باوجود، پارکوں کی موجودہ حالت اس بات کا ثبوت ہے کہ تاحال بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ فنڈنگ کے موجودہ ماڈل میں تبدیلی کے بغیر، نارتھ ایسٹ کے سبز مقامات کا معیار جنوبی انگلینڈ کے خوشحال علاقوں کے مقابلے میں کم ہی رہے گا۔
یہ ایوارڈز دراصل سرمایہ کاری کا حساب کتاب ہیں، اور نارتھ ایسٹ کے لیے، اس وقت یہ اسکور کارڈ بہت پیچھے نظر آتا ہے۔
