صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کی میتیں وطن واپس لانے کے معاملے میں مشکلات سامنے آگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مقتول پاکستانیوں کی میتوں کی شناخت اور پاکستان منتقلی کے لیے اہل خانہ کو صومالیہ یا دبئی جانے کا کہا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق شپنگ کمپنی وارف چارٹرنگ نے جاں بحق پاکستانیوں کے اہل خانہ سے رابطہ کیا ہے اور خاندان کے ایک، ایک فرد کو میتوں کی شناخت کے لیے صومالیہ یا دبئی جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شپنگ کمپنی کی جانب سے سیکنڈ آفیسر کاشف عمر کے بیٹے اذہان اور تھرڈ انجینئر محمود انصاری کے بیٹے مزمل کو پاسپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق میتوں کی شناخت کے لیے اہل خانہ کو صومالیہ کے شہر بندر بیلا یا دبئی جانا ہوگا۔ شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد اہل خانہ میت کے ہمراہ وطن واپس آئیں گے۔
تاہم ذرائع کے مطابق مقتول پاکستانیوں کے اہل خانہ نے اپنے بچوں کو صومالیہ یا دبئی بھیجنے سے انکار کردیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کے پیاروں کی میتیں محفوظ طریقے سے پاکستان لائی جائیں۔
مقتول محمود انصاری کے بیٹے مزمل نے کہا کہ "ہم اپنے والد کو زندہ نہیں لا سکے، کم از کم ان کی میت ہی وطن واپس لائی جائے۔”
اہل خانہ کی جانب سے میتوں کی وطن واپسی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ معاملے میں میتوں کی شناخت، قانونی کارروائی اور پاکستان منتقلی کے طریقہ کار سے متعلق مزید پیش رفت کا انتظار ہے۔
