پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے رہنماؤں نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کو درپیش پیشہ ورانہ اور ضابطہ جاتی مسائل کے خلاف ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کی گئی۔
پی ایم اے کے نمائندوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹروں کو ہراساں کرنے اور اغوا کیے جانے کے واقعات کا سامنا ہے، جبکہ طبی ماہرین پر عائد کیے جانے والے بھاری مالی جرمانوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں نے ایک ایسے ڈاکٹر کے معاملے کا بھی ذکر کیا جس پر، ان کے مطابق، 10 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے قوانین اور ان سے متعلق بعض تقاضوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ پی ایم اے کے مطابق ان ضوابط کے نتیجے میں مریضوں اور ڈاکٹروں کی رازداری اور نجی معلومات کے تحفظ پر اثر پڑ سکتا ہے۔ پی ایم اے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے۔
پی ایم اے نے حکومت کو 11 اکتوبر تک مسائل حل کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو نجی میڈیکل سینٹرز کی مکمل شٹ ڈاؤن کی کال دینے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
پی ایم اے کے مطابق اس حوالے سے حتمی فیصلہ پنجاب میں ہونے والے مرکزی کنونشن کے دوران کیا جائے گا، جہاں تنظیم کے رہنما آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کریں گے۔
