پاکستان نے بدھ کے روز اپنی 78 ویں سالگرہ روایتی جوش و خروش کے بجائے ایک ایسے ماحول میں منائی جہاں معاشی مشکلات نے عوامی خوشیوں کو گہن لگا رکھا ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں پرچم کشائی کی تقریبات ہوئیں، تاہم سرکاری بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج واضح نظر آئی۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغامات میں سیاسی استحکام اور ساختی اصلاحات پر زور دیا۔ انہوں نے قوم کو داخلی اختلافات بھلا کر ملکی ترقی کے سفر میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "خوشحالی کا راستہ نظم و ضبط اور اتحاد سے گزرتا ہے۔” انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے حکومتی اقدامات کو ملکی معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
تاہم، عام شہری کے لیے ان دعووں اور دکان پر موجود قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ افراطِ زر کی بلند شرح اور حالیہ ٹیکسوں نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ بجلی کے بھاری بل اور روزمرہ اشیاء کی قیمتیں ان تقریری بیانات سے کہیں زیادہ اثر انگیز ثابت ہو رہی ہیں، جس کے باعث عوام میں ایک گہری بے چینی پائی جاتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ قیادت کی جانب سے "اتحاد” پر زور اکثر تنقید کو دبانے کا ایک حربہ بن جاتا ہے۔ حکومت جہاں اپوزیشن کے رویے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتی ہے، وہیں ناقدین کا موقف ہے کہ معاشی جمود کی اصل وجہ معیشت کے تنوع میں ناکامی اور بیرونی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات اس انحصار کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جسے یومِ آزادی کی تقریریں چھپا نہیں سکتیں۔
فوجی قیادت نے بھی اپنے پیغام میں قومی سلامتی کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ استحکام ہی ریاست کی بقا کی بنیاد ہے۔ آرمی چیف نے اپنے پیغام میں داخلی و خارجی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے اسے قومی عزم کا امتحان قرار دیا۔
سرکاری سطح پر ایک بہتر مستقبل کی تصویر پیش کی گئی، لیکن شہروں کی سڑکیں اور بازار اس جوش و خروش سے خالی نظر آئے جو ماضی میں دیکھنے کو ملتا تھا۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے یومِ آزادی ایک روایتی دن سے زیادہ کچھ نہیں۔
حکومت کی جانب سے اصلاحات کا مطالبہ ریاست کی کمزوری کا اعتراف تو ہے، لیکن کیا یہ محض سیاسی بیان بازی ہے یا حقیقی تبدیلی کی جانب پہلا قدم؟ اس کا فیصلہ آنے والے مہینوں کے معاشی اعداد و شمار کریں گے۔ جب تک معاشی بوجھ کم نہیں ہوتا، ریاست کے وژن اور شہری کی حقیقت کے درمیان یہ خلیج مزید گہری ہوتی رہے گی۔
