وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے کے 63 سب رجسٹرارز کی جانب سے ترقی قبول کرنے سے انکار کے معاملے پر اہم قدم اٹھاتے ہوئے ان کی ترقی مسترد کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ بیوروکریسی میں اختیارات کے استعمال اور افسران کے رویے پر سوالات اٹھنے کے بعد کیا گیا ہے۔
معاملہ تب شروع ہوا جب صوبائی حکومت نے ان افسران کو ترقی دے کر اعلیٰ گریڈز میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، سب رجسٹرارز نے اپنے عہدوں اور تعیناتی کے مقامات کو جواز بنا کر ترقی لینے سے ہی انکار کر دیا۔ حکومت کے متعلقہ محکمے نے ابتدائی طور پر اس انکار کو قبول کر لیا تھا، جس سے انتظامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا ہوئی۔
انتظامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری افسران اپنی مرضی سے ترقیوں کا انتخاب کرنے لگیں تو صوبائی سروس کا پورا ڈھانچہ درہم برہم ہو جائے گا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق، کئی افسران کا مقصد ترقی کے بعد دور دراز اضلاع میں تبادلے سے بچنا اور منافع بخش شہری علاقوں میں اپنی گرفت برقرار رکھنا تھا۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے نوٹیفکیشن کی معطلی محض ایک انتظامی حکم نہیں، بلکہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ترقی سرکاری ملازمت کا لازمی حصہ ہے، کوئی اختیاری پیشکش نہیں۔ حکومت اب ان افسران کے سروس ریکارڈ کی جانچ پڑتال شروع کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، اگر ان افسران نے دوبارہ ترقی قبول کرنے سے گریز کیا تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اس میں سروس سے معطلی یا سخت محکمانہ کارروائی شامل ہو سکتی ہے۔ سندھ کی بیوروکریسی میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا یہ اقدام سب رجسٹرارز کے دفاتر میں قائم بااثر گروپس کے اثر و رسوخ کو ختم کر سکے گا یا یہ سرد مہری کسی نئے تنازع کو جنم دے گی۔
