پلوٹو کا شمار سیاروں میں ہوگا یا نہیں؟ یہ سوال ایک بار پھر فلکیاتی دنیا میں گرم ہو چکا ہے۔ 2006 میں انٹرنیشنل اسٹرونومیکل یونین کی جانب سے پلوٹو کا درجہ گھٹا کر اسے "بونا سیارہ” قرار دینے کا فیصلہ آج بھی ماہرین کے لیے باعثِ تنازع ہے۔
2006 کے اس فیصلے کی بنیاد ایک شرط پر رکھی گئی تھی: ایک سیارے کو اپنے مدار کے آس پاس کا علاقہ صاف کرنا ہوگا۔ پلوٹو کیونکہ کوئپر بیلٹ کے ہزاروں دیگر اجسام کے ساتھ اپنا مدار شیئر کرتا ہے، اس لیے اسے سیاروں کی فہرست سے نکال دیا گیا۔ اب سائنسدانوں کا ایک بڑا گروپ اس معیار کو فرسودہ اور غیر سائنسی قرار دے رہا ہے۔
یونیورسٹی آف سینٹرل فلوریڈا کے ماہرِ فلکیات ڈاکٹر فلپ میٹزگر اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ سیارے کی تعریف اس کے مدار سے نہیں، بلکہ اس کی ارضیاتی خصوصیات سے ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق پلوٹو ایک متحرک دنیا ہے۔ وہاں پیچیدہ ماحول، نامیاتی مرکبات، قدیم جھیلوں کے آثار اور نائٹروجن گلیشیئرز موجود ہیں۔
سائنسدانوں کا استدلال ہے کہ اگر "مدار صاف کرنے” کا معیار لاگو کیا جائے تو زمین بھی سیارہ نہیں رہے گی، کیونکہ اگر زمین کو کسی دوسرے مدار میں منتقل کر دیا جائے تو اس کی کشش ثقل بھی وہاں موجود ملبے کو صاف کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ یہ دلیل سیاروں کی درجہ بندی کے موجودہ نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اس بحث کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اگر پلوٹو کو دوبارہ سیارہ تسلیم کیا جاتا ہے، تو نظامِ شمسی میں سیاروں کی تعداد آٹھ سے بڑھ کر سو سے تجاوز کر سکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد نصابی کتب اور عام فہم فلکیات کے لیے الجھن کا باعث بنے گی۔ ان کے نزدیک 2006 کا فیصلہ ایک منظم نظام کے لیے ضروری تھا۔
دوسری جانب حامیوں کا ماننا ہے کہ سائنس کو نصابی کتب کی سہولت کے لیے نہیں، بلکہ حقیقت پسندی کے لیے ہونا چاہیے۔ پلوٹو محض ایک پتھر کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک ایسی دنیا ہے جس کی اپنی ارضیاتی تاریخ ہے۔
کیا اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے گی؟ فی الحال اس کا امکان کم ہے۔ تاہم، یہ بحث اس بنیادی سوال کو دوبارہ زندہ کر چکی ہے کہ کیا کسی دنیا کی پہچان اس کے تنہا راستے سے ہوتی ہے، یا اس کی اپنی اندرونی خصوصیات سے؟
