ریڈکار کے قریب واقع کواتھم مارش نیچر ریزرو میں لگنے والی بڑی آگ نے ایک محفوظ گھونسلہ سازی کے علاقے کو بری طرح متاثر کیا ہے، اور ماہرینِ تحفظِ ماحول نے خبردار کیا ہے کہ اس کے اثرات مقامی جنگلی حیات پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔ ٹیز ویلی وائلڈ لائف ٹرسٹ نے کہا کہ 26 جون 2025 کی شام بھڑکنے والی اس آگ نے ایسے حصے کو نقصان پہنچایا جہاں پرندے افزائشِ نسل کے لیے آتے ہیں، اور ادارے نے اس نقصان کو “تباہ کن” قرار دیا۔
یہ محض ایک عام آگ کا واقعہ نہیں تھا۔ کواتھم مارش تقریباً 54 ہیکٹر پر پھیلا ایک اہم قدرتی محفوظ علاقہ ہے، جو ٹیزماؤتھ اینڈ کلیولینڈ کوسٹ سائٹ آف اسپیشل سائنٹیفک انٹرسٹ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ جگہ آبی پرندوں، ہجرت کرنے والے پرندوں اور حساس دلدلی ماحول کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، اس لیے گھونسلہ سازی کے موسم میں یہاں آگ لگنا قدرتی نظام کے لیے بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔
ٹرسٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں “مضبوط وجوہات” کی بنیاد پر شبہ ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی۔ اسی نکتے نے معاملے کو اور زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں لگتا، بلکہ حالیہ عرصے میں ٹیز ویلی کے محفوظ قدرتی مقامات اور دیہی علاقوں میں اس نوعیت کی آگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی آگ صرف گھاس یا جھاڑیوں کو نہیں جلاتی بلکہ گھونسلے، انڈے، نومولود پرندے اور وہ قدرتی پناہ گاہیں بھی ختم کر دیتی ہے جن پر افزائشِ نسل کا پورا عمل منحصر ہوتا ہے۔ ایسے مقامات کی بحالی فوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک موسم نہیں، کئی سیزن لگ جاتے ہیں تاکہ پرندے دوبارہ اسی اعتماد کے ساتھ وہاں واپس آئیں۔
کواتھم مارش کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ صنعتی دباؤ کے شکار ساحلی خطے میں موجود چند قیمتی جنگلی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں نمکین دلدلی زمین، میٹھے پانی کے حصے، گھاس زار اور جھیل نما علاقے ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی ماہرینِ ماحول کے نزدیک یہ آگ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے نازک قدرتی نظام پر حملہ ہے جو پہلے ہی دباؤ میں ہے۔
اب توجہ اس بات پر ہے کہ اصل نقصان کا مکمل اندازہ لگایا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ آگ کیسے لگی۔ لیکن ایک بات صاف ہے: کواتھم مارش میں پیش آنے والا یہ واقعہ معمولی نوعیت کا نہیں۔ یہ ایک محفوظ جنگلی حیات کے مقام پر ایسا وار ہے جس کے اثرات دھواں ختم ہونے کے کافی بعد تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
