پاکستان میں اشیا بردار ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 5 فیصد اضافہ کر دیا ہے اور ساتھ ہی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھاری ٹریفک جرمانے واپس لیے جائیں یا مکمل طور پر ختم کیے جائیں۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں اور سخت نفاذی کارروائیوں نے کاروبار چلانا مشکل بنا دیا ہے۔
اس تازہ اضافے کی بڑی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ ٹرانسپورٹر تنظیموں کے مطابق ڈیزل اور پٹرول مہنگا ہونے سے مال برداری کے اخراجات فوری طور پر بڑھ گئے، جس کا بوجھ اب کرایوں میں اضافے کی صورت میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں پرانے نرخوں پر کام جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
تاہم معاملہ صرف ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں۔ ٹرانسپورٹرز کئی ماہ سے حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ بھاری جرمانوں، ایکسل لوڈ کی سخت پابندیوں، لائسنسنگ مسائل اور موٹروے و ٹریفک پولیس کے نفاذی طریقہ کار پر نظرِ ثانی کی جائے۔ ان کے مطابق موجودہ جرمانے اس قدر زیادہ ہیں کہ ڈرائیوروں اور گاڑی مالکان کے لیے روزمرہ آپریشن متاثر ہو رہے ہیں۔
اس تنازعے کا ایک اہم پہلو پنجاب کے ترمیم شدہ ٹریفک قوانین بھی ہیں، جن پر ٹرانسپورٹرز پہلے ہی سخت اعتراض کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط کے تحت جرمانوں میں اتنا اضافہ کیا گیا کہ شعبے کے لیے مالی دباؤ مزید بڑھ گیا۔ بعض حلقوں نے اسے معمول کی نگرانی نہیں بلکہ نقل و حمل کے کاروبار پر براہ راست دباؤ قرار دیا ہے۔
کرایوں میں اضافے کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ شعبے تک محدود نہیں رہتے۔ مال برداری مہنگی ہونے سے سپلائی چین پر فوری دباؤ آتا ہے، جس کے نتیجے میں تاجروں، ہول سیل مارکیٹوں اور آخرکار عام صارفین کے لیے بھی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اسی لیے اس قسم کے فیصلے معیشت کے وسیع تر دائرے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
فی الحال صورتِ حال یہی بتا رہی ہے کہ ٹرانسپورٹرز خود کو دو طرفہ دباؤ میں محسوس کر رہے ہیں: ایک طرف ایندھن کی بلند قیمتیں، دوسری طرف بھاری جرمانے۔ حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ سڑکوں پر قانون کا نفاذ بھی برقرار رہے اور ایسا بحران بھی پیدا نہ ہو جس سے مال برداری متاثر ہو اور بازار میں مزید مہنگائی بڑھے۔
