امریکی فاریسٹ سروس ایک بڑی تنظیمِ نو کے تحت اپنی 77 میں سے 57 تحقیقی سہولتیں 31 ریاستوں میں بند کر رہی ہے، جس پر سائنس دانوں، جنگلاتی ماہرین اور ماحولیاتی حلقوں نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ ادارے کے مطابق اس منصوبے کے تحت تحقیقاتی ڈھانچے کو ایک متحد قومی نظام میں بدلا جائے گا، جس کی قیادت فورٹ کولنز، کولوراڈو سے ہوگی، جبکہ فاریسٹ سروس کے ہیڈکوارٹر کو بھی واشنگٹن سے سالٹ لیک سٹی منتقل کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد انتظامی پیچیدگی کم کرنا، مقامی سطح پر قیادت مضبوط بنانا اور سائنسی ترجیحات کو ایک جگہ جمع کرنا ہے۔ سرکاری فیکٹ شیٹ کے مطابق نئی ساخت تحقیق کو انتظامی فیصلوں سے زیادہ تیزی سے جوڑنے اور “دوہرا کام” کم کرنے کے لیے بنائی جا رہی ہے۔
لیکن ناقدین اس وضاحت سے مطمئن نہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق خدشہ یہ ہے کہ ان بندشوں سے جنگلات میں آگ کے خطرات، خشک سالی، کیڑوں اور بیماریوں، آبی ذخائر، مٹی اور جنگلی حیات سے متعلق دہائیوں پر محیط فیلڈ ریسرچ شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی لیبارٹریاں صرف دفاتر نہیں بلکہ مخصوص مقامات پر قائم سائنسی مراکز ہیں، جہاں طویل المدتی مشاہدات اور مقامی ماحولیاتی تحقیق برسوں سے جاری ہے۔
تشویش کی ایک بڑی وجہ جنگلاتی آگ سے متعلق تحقیق ہے۔ اسٹیٹ لائن کی رپورٹ کے مطابق کئی فاریسٹرز سمجھتے ہیں کہ یہ بندشیں ایسے وقت میں قومی تیاری کو کمزور کر سکتی ہیں جب امریکا ایک اور شدید وائلڈ فائر سیزن کے قریب جا رہا ہے۔ مقامی اور قومی سطح کی دیگر رپورٹس میں بھی یہی اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر سائنس دانوں کو منتقل ہونا پڑا یا وہ ملازمت چھوڑ گئے تو عملی مہارت اور ادارہ جاتی یادداشت دونوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس بڑے منصوبے میں صرف لیبارٹریاں ہی نہیں، بلکہ ادارے کی مجموعی ساخت بھی بدل رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 260 آسامیوں کو یوٹاہ منتقل کیا جائے گا جبکہ کچھ عملہ واشنگٹن میں برقرار رہے گا، تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ کتنے مزید ملازمین متاثر ہوں گے یا کتنی جاری تحقیقی سرگرمیاں رکاوٹ کا شکار ہوں گی۔
حمایت کرنے والوں کے نزدیک یہ قدم مغربی ریاستوں اور زمینی حقائق کے قریب فیصلہ سازی کے لیے ضروری ہے۔ مگر مخالفین اسے محض انتظامی اصلاح نہیں بلکہ وفاقی سائنسی صلاحیت میں ایک گہری کٹوتی قرار دے رہے ہیں۔ اصل سوال اب یہی ہے کہ فاریسٹ سروس کی یہ نئی ساخت واقعی زیادہ مؤثر ثابت ہوگی یا پھر اس کے نتیجے میں جنگلات، آگ اور موسمیاتی دباؤ سے متعلق اہم تحقیق کمزور پڑ جائے گی۔
