ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے شعبہ زراعت کو مالی سال 2025-26 کے دوران تباہ کن سیلاب کی وجہ سے 430 ارب روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اقتصادی سروے کے مطابق، اس قدرتی آفت نے پیداواری اہداف کو ملیا میٹ کر دیا ہے، جس کے بعد حکومت کو برآمدی حکمت عملی ترک کر کے ہنگامی بنیادوں پر غذائی تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنی پڑی۔
نقصان کا دائرہ صرف فصلوں کی تباہی تک محدود نہیں۔ لاکھوں کسانوں کی روزی روٹی چند ہفتوں میں بہہ گئی، جس کے بعد بدترین متاثرہ اضلاع کے چھوٹے کاشتکار اگلی فصل کی کاشت کے لیے درکار قرض حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔
وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے ایک اعلیٰ افسر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ہم صرف موسمی کمی کا سامنا نہیں کر رہے۔ یہ سپلائی چین میں ایک ایسی بنیادی خلل ہے جس کی وجہ سے خوراک کی قیمتیں اگلے سال تک غیر مستحکم رہیں گی۔”
سب سے زیادہ نقصان گندم اور کپاس کی فصلوں کو پہنچا۔ گندم کی پیداوار ہدف سے تقریباً 12 فیصد کم رہی، جس کے باعث حکومت کو ملکی سطح پر قلت سے بچنے کے لیے درآمدی کوٹہ بڑھانا پڑا۔ ٹیکسٹائل صنعت کے لیے خام مال کی فراہمی کا اہم ذریعہ کپاس کی فصل تھی، جس کی تباہی فیصل آباد اور کراچی جیسے صنعتی مراکز میں پہلے ہی بے روزگاری کی لہر پیدا کر چکی ہے۔
سرکاری سروے میں دیہی انفراسٹرکچر کی خستہ حالی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ سیلابی ریلوں نے آبپاشی کے نظام، دیہی سڑکوں اور گوداموں کو تباہ کر دیا، جس کی وجہ سے بچ جانے والی فصل بھی خراب ہو گئی۔ اگرچہ حکومت نے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز تباہی کے حجم کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔
ماہرین معاشیات اب مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے اہداف پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ زراعت کا ملکی معیشت میں حصہ نمایاں ہونے کے باعث، 430 ارب روپے کا یہ دھچکا مجموعی معاشی کارکردگی کو متاثر کرے گا، جس سے کرنسی کے استحکام اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے حکومتی اقدامات مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔
حکومت کے سامنے اب اصل چیلنج بحالی نہیں، بلکہ بقا ہے۔ اگر اگلی فصل کی کاشت سے پہلے امدادی رقوم دیہی علاقوں تک نہ پہنچیں، تو ملک کو ایک اور بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: زرعی زمینوں کا مستقل بنجر ہونا اور دیہی آبادی کا شہروں کی جانب ہجرت کا سیلاب۔
