شمالی اٹلی کے میوزیئو سیویکو میں منگل کی صبح ہونے والی ایک منظم واردات میں نشاۃ ثانیہ کے چار نایاب فن پارے چوری کر لیے گئے۔ مقامی پولیس کے مطابق، چور جدید ترین سیکیورٹی الارمز اور موشن سینسرز کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ چوری صبح تین سے چار بجے کے درمیان ہوئی۔ چوروں نے انتہائی مہارت سے تصاویر کو فریموں سے نکالا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کام کسی اناڑی کا نہیں، بلکہ ایسے گروہ کا ہے جسے عجائب گھر کے نقشے اور سیکیورٹی کے کمزور پہلوؤں کی مکمل جانکاری تھی۔
پولیس کمشنر مارکو روسی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ کوئی عام واردات نہیں تھی۔ چوروں کو معلوم تھا کہ کون سی پینٹنگز اٹھانی ہیں اور فرار ہونے کے لیے کون سا راستہ استعمال کرنا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ یہ کسی نجی کلیکٹر کی فرمائش پر کیا گیا کام ہے۔”
ان فن پاروں کی مالیت تقریباً 12 ملین یورو بتائی جا رہی ہے۔ اگرچہ عجائب گھر کا بیمہ مالی نقصان کی تلافی کر سکتا ہے، لیکن ماہرینِ فن کا کہنا ہے کہ ثقافتی نقصان ناقابلِ تلافی ہے۔ یہ پینٹنگز کھلی منڈی میں فروخت کرنا تقریباً ناممکن ہے، جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں کسی غیر قانونی نجی نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے۔
عجائب گھر نے حال ہی میں اپنی نگرانی کا نظام اپ گریڈ کیا تھا، لیکن چوروں نے ایک الیکٹرانک جیمر کا استعمال کرتے ہوئے چھ منٹ کے لیے کیمروں کو معطل کر دیا۔ تکنیکی مہارت کا یہ مظاہرہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس میں آرٹ کی چوری میں ملوث کوئی منظم گروہ شامل ہے۔
اٹلی کے ‘کارابینیری آرٹ اسکواڈ’ نے، جو ثقافتی ورثے کی بازیابی کے لیے مختص ہے، سرحدوں کو سیل کر دیا ہے اور انٹرپول کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ فی الحال عجائب گھر عوام کے لیے بند ہے۔ تفتیش کاروں کی سب سے بڑی تشویش ان کینوسز کی حفاظت ہے، جنہیں خاص درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر چوروں نے انہیں مناسب ماحول میں نہ رکھا، تو یہ شاہکار چند دنوں میں ہی ضائع ہو سکتے ہیں۔
