جیفری ایپسٹین کے جنسی استحصال کے نیٹ ورک سے بچ جانے والے افراد نے اب برطانوی حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ ڈیوک آف یارک، پرنس اینڈریو کے بدنام زمانہ مالیاتی ماہر کے ساتھ تعلقات کی باقاعدہ عوامی تحقیقات کا آغاز کرے۔
متاثرین کے گروپ نے اس ہفتے برطانوی ہوم آفس کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ پرنس اینڈریو کے ایپسٹین اور اس کی ساتھی گیلین میکسویل کے ساتھ تعلقات ایک ایسا معاملہ ہے جس کی کبھی شفاف اور آزادانہ تحقیقات نہیں کی گئیں۔
برطانوی شاہی خاندان برسوں سے اس تنازع سے خود کو دور رکھنے کی کوشش میں ہے۔ پرنس اینڈریو نے 2019 میں بی بی سی کو دیے گئے اپنے متنازع انٹرویو کے بعد عوامی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ بعد ازاں، انہوں نے ورجینیا جیوفرے کی جانب سے دائر کیے گئے جنسی زیادتی کے دیوانی مقدمے میں ایک خفیہ رقم کے عوض تصفیہ کر لیا، تاہم وہ مسلسل کسی بھی غلط کام سے انکار کرتے رہے ہیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ نجی تصفیہ انصاف کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
گروپ کی ایک نمائندہ نے کہا کہ "عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ پرنس کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی۔” ان کے مطابق، کسی سرکاری تحقیقات کا نہ ہونا ایک ایسا خلا پیدا کرتا ہے جس سے ایپسٹین جیسے بدنام زمانہ مجرم کے ساتھ شاہی خاندان کے قریبی تعلقات سے جڑے سوالات تشنہ طلب رہتے ہیں۔
برطانوی حکومت اب تک اس طرح کی تحقیقات کے مطالبات کو مسترد کرتی آئی ہے۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کا موقف رہا ہے کہ یہ معاملہ شاہی خاندان کا نجی معاملہ ہے، نہ کہ ریاستی سطح پر تحقیقات کا موضوع۔ تاہم، قانونی اور اخلاقی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایپسٹین اسکینڈل کی زد میں دنیا بھر کے سیاسی رہنما، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور بااثر شخصیات آئیں، لیکن پرنس اینڈریو واحد برطانوی شخصیت ہیں جو اس حلقے سے جڑے ہونے کے باوجود کسی سرکاری احتساب سے بچ نکلے۔
متاثرین کے لیے یہ جدوجہد صرف پرنس اینڈریو تک محدود نہیں، بلکہ اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا ہے جس نے ایپسٹین کو دہائیوں تک سزا سے محفوظ رکھا۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک ان کے ساتھیوں کے کردار کو عوامی فورم پر نہیں لایا جاتا، متاثرین کو مکمل انصاف نہیں مل سکتا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہوم آفس اپنی خاموشی توڑتا ہے یا نہیں۔ متاثرین اپنی مہم کو تیز کر رہے ہیں، اور یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ برطانوی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایپسٹین کے سائے سے پیچھا چھڑانا اب ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
