تہران — ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران کم از کم 40 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ عدالتی نظام کی جانب سے یہ کارروائیاں سیاسی کارکنوں اور منشیات سے متعلق جرائم کے مرتکب افراد کو ہدف بنا رہی ہیں۔
یہ اضافہ 2022 کی "خواتین، زندگی، آزادی” تحریک کے بعد سے ریاستی کنٹرول کو مزید سخت کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ عالمی برادری کی توجہ خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر مرکوز ہے، مگر ایران کے بند کمروں میں عدالتی مشینری بلا تعطل کام کر رہی ہے، جہاں اکثر ملزمان کو قانونی دفاع کا بنیادی حق بھی میسر نہیں ہوتا۔
لندن میں مقیم ایک انسانی حقوق کے محقق نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ریاست اپنی مطلق العنانیت ثابت کرنے کے لیے پھانسی کے پھندے کا استعمال کر رہی ہے۔ جیسے ہی عالمی خبروں کا رخ بدلتا ہے، پھانسیوں کی رفتار میں مزید تیزی آ جاتی ہے۔”
پھانسی پانے والے زیادہ تر افراد کو بند کمرے کی عدالتوں میں سزائیں سنائی گئیں۔ لواحقین کے مطابق انہیں اکثر وکیل تک رسائی نہیں دی جاتی اور سزائے موت پر عمل درآمد کی تاریخ سے تب تک لاعلم رکھا جاتا ہے جب تک کہ سب کچھ ختم نہ ہو جائے۔ کئی واقعات میں حکام نے خاندانوں کو اطلاع دیے بغیر خود ہی لاوارث لاشیں دفنا دیں، جسے انسانی حقوق کے کارکن عوامی غم و غصے کو دبانے اور احتجاج روکنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیتے ہیں۔
منشیات کے جرائم ان سزاؤں کی سب سے بڑی وجہ بتائے جاتے ہیں۔ تاہم، ایران کے قانون میں ان جرائم کی تعریف اتنی وسیع ہے کہ کسی بھی شخص کو بڑی آسانی سے اس کے تحت لایا جا سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام شفاف ٹرائل کے بین الاقوامی معیارات کو نظر انداز کرتا ہے اور طویل عرصے تک قید تنہائی میں تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے اعترافی بیانات پر انحصار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے ایران سے بارہا سزائے موت پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور قانونی عمل میں شفافیت کے فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تہران ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو قومی سلامتی اور امن عامہ کے قیام کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے۔
موت کی سزا کے منتظر قیدیوں کے خاندانوں کے لیے ہر دن ایک اذیت ناک انتظار ہے۔ حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جو احتجاج کبھی سڑکوں پر گونجتا تھا، اسے اب ریاست کی جانب سے ایک خاموش مگر مہلک ردعمل کا سامنا ہے۔
عالمی دباؤ اس وقت محض علامتی حد تک محدود دکھائی دیتا ہے، جس کے باعث قیدیوں کے خاندانوں کے پاس اپیل کے دروازے تقریباً بند ہو چکے ہیں — اور امید کی کرنیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔
