ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے ایک نئی تجویز پاکستانی ثالثی کے ذریعے بھجوا دی ہے، جسے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سفارتی رابطے بحال رکھنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق یہ نیا مسودہ جمعرات کی شام پاکستان کے حوالے کیا گیا، تاہم اس کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔ پاکستانی حکام نے بھی اشارہ دیا ہے کہ تہران نے امریکی مؤقف کے جواب میں ایک نظرثانی شدہ ردعمل پیش کیا ہے۔
یہ پیش رفت بظاہر کسی حتمی بریک تھرو سے زیادہ ایک تعطل کا شکار سفارتی عمل کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان رابطے ابھی تک نازک مرحلے میں ہیں، اور کسی ممکنہ معاہدے کی نوعیت، وقت اور ترجیحات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ ثالثی کے عمل سے جڑے حکام نے ایرانی جواب موصول ہونے کے بعد محتاط امید ظاہر کی ہے، لیکن اب تک کسی حتمی معاہدے یا نئی براہِ راست ملاقات کا اعلان نہیں ہوا۔
اصل تنازع اس بات پر ہے کہ مذاکرات میں کن امور کو پہلے نمٹایا جائے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق تہران کی کوشش یہ رہی ہے کہ پہلے فوری کشیدگی میں کمی، علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر بات ہو، جبکہ جوہری پروگرام کے معاملے کو بعد کے مرحلے میں رکھا جائے۔ اس کے برعکس واشنگٹن اب بھی یہ چاہتا ہے کہ کسی بھی سنجیدہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کو براہِ راست شامل کیا جائے۔ یہی اختلاف پہلے بھی پیش رفت میں بڑی رکاوٹ بنا تھا۔
اس تمام عمل میں پاکستان کا کردار خاصا اہم ہو گیا ہے، کیونکہ اس وقت اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان بنیادی پسِ پردہ رابطہ چینل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ یہ کردار صرف سفارتی لحاظ سے اہم نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی اعتبار سے بھی وزن رکھتا ہے، کیونکہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی کا اثر سمندری راستوں، توانائی منڈیوں اور وسیع تر علاقائی استحکام پر پڑ سکتا ہے۔
فی الحال اس نئی ایرانی تجویز کو کسی حتمی سمجھوتے کے بجائے ایک اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ ابھی مکمل بند نہیں ہوا۔ رابطہ برقرار ہے، پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، اور مزید بات چیت کا امکان بھی موجود ہے۔ لیکن اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ تازہ سفارتی تبادلہ کسی حقیقی ملاقات اور عملی پیش رفت میں بدلتا ہے یا نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بنیادی اختلافات ابھی جوں کے توں موجود ہیں۔
