پاکستان کا مؤقف بہت واضح ہے: اس نے موسمیاتی بحران پیدا کرنے میں نہایت کم کردار ادا کیا، مگر اس کے اثرات کی بھاری قیمت اسے ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، گلیشیئر پگھلنے اور زرعی نقصان جیسے خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یہی عدم توازن اس بحث کو جنم دیتا ہے جسے اب بہت سے لوگ “موسمیاتی نوآبادیات” کہتے ہیں۔
پاکستان میں یہ مسئلہ محض نظریاتی نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ کہیں گھر بہہ جاتے ہیں، کہیں فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، اور کہیں پورے علاقے دوبارہ آباد کرنے کے لیے حکومت کو ایسے وسائل درکار ہوتے ہیں جو اس کے پاس پہلے ہی محدود ہیں۔ ترقیاتی اداروں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے مجموعی اثرات پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ 2030 تک ملک کو درکار موسمیاتی مالیاتی وسائل اور دستیاب فنڈز کے درمیان بہت بڑا فرق موجود ہے۔ مطلب صاف ہے: ایک ایسا ملک جو بحران کا اصل ذمہ دار نہیں، اسے بقا کے لیے بھی قرض، امداد اور بیرونی تعاون پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
2022 کے تباہ کن سیلاب اس ناانصافی کی سب سے نمایاں مثال بن کر سامنے آئے۔ سائنسی تجزیوں کے مطابق انسانی سرگرمیوں سے بڑھنے والی موسمیاتی تبدیلی نے ان شدید بارشوں کے امکانات اور شدت میں اضافہ کیا جنہوں نے پاکستان کے وسیع علاقوں کو ڈبو دیا۔ اس آفت سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے، لاکھوں گھر تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے، اور مجموعی معاشی نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالر کے قریب یا اس سے زیادہ لگایا گیا۔ یہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں تھی؛ یہ ایک ایسے عالمی نظام کا نتیجہ بھی تھی جس میں آلودگی کہیں اور پیدا ہوتی ہے اور تباہی کہیں اور نازل ہوتی ہے۔
خطرہ وہیں ختم نہیں ہوا۔ پاکستان آج بھی شدید گرمی کی لہروں، بےترتیب مون سون، پانی کے دباؤ اور شمالی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں کی رپورٹس بار بار یہ بتا رہی ہیں کہ ملک میں موسمیاتی آفات اب غیر معمولی واقعات نہیں رہیں، بلکہ ایک مسلسل اور دہرایا جانے والا بحران بنتی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ “پاکستان قیمت کیوں چکاتا ہے” کا سوال اب زیادہ سخت اور زیادہ سیاسی ہو گیا ہے۔
اس بحث کا دوسرا اہم پہلو مالی انصاف ہے۔ پاکستان اور دوسرے کمزور ممالک کا شکوہ یہ ہے کہ عالمی موسمیاتی مالیات نہ صرف ناکافی ہے بلکہ اکثر ایسے انداز میں دی جاتی ہے جو متاثرہ ممالک کا بوجھ اور بڑھا دیتی ہے۔ بارہا یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے قرض نہیں بلکہ گرانٹ دی جائے، کیونکہ یہ غیر منصفانہ ہے کہ جو ملک خود اس بحران کا بڑا سبب نہیں، وہی اس سے نمٹنے کے لیے مزید قرضوں میں ڈوبتا جائے۔ عالمی اور علاقائی پالیسی دستاویزات بھی تسلیم کرتی ہیں کہ فنڈز تک رسائی سست، پیچیدہ اور ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
اسی لیے “موسمیاتی نوآبادیات” کی اصطلاح محض نعرہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اور اخلاقی الزام بھی ہے۔ اس کے پیچھے یہ خیال ہے کہ پرانے طاقتور صنعتی ممالک نے دہائیوں تک کاربن اخراج پر مبنی ترقی سے فائدہ اٹھایا، جبکہ پاکستان جیسے ممالک اب اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نوآبادیاتی دور کی براہِ راست حکمرانی کی جگہ اب عالمی مالیاتی ڈھانچے، پالیسی شرائط اور غیر مساوی ماحولیاتی بوجھ نے لے لی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صرف ماحولیات کی خبر نہیں۔ یہ معیشت، قرض، خوراک، صحت اور انصاف — سب کی خبر ہے۔ ملک اپنے محدود وسائل ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے بار بار بقا، بحالی اور موافقت پر لگا رہا ہے۔ اصل شکایت یہی ہے: جس نے آگ نہیں لگائی، وہی سب سے زیادہ جل رہا ہے۔
