رومانیہ اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ڈرون انٹرسیپٹر سسٹمز کی آزمائش اور تعیناتی کر رہا ہے، کیونکہ یوکرین کے ڈینیوب بندرگاہوں کے قریب بار بار روسی ڈرون سرگرمیوں نے نیٹو کے مشرقی حصے میں سیکیورٹی خدشات بڑھا دیے ہیں۔
یہ جدید نظام دشمن ڈرونز کو شناخت کرنے، ٹریک کرنے اور انہیں تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، حتیٰ کہ ان حالات میں بھی جب سیٹلائٹ نیویگیشن یا الیکٹرانک کمیونیکیشن جام ہو رہی ہو۔ “میروپس” نامی ایسا ایک سسٹم پہلے ہی رومانیہ اور پولینڈ میں تعینات کیا جا رہا ہے، جسے اس سے قبل یوکرین میں آزمایا گیا تھا۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب رومانیہ کے قریبی یا بعض اوقات اندرونی علاقوں میں روسی ڈرون واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ رومانیہ کو بارہا یوکرین کی بندرگاہی تنصیبات پر حملوں کے بعد اس کے سرحدی علاقوں کے قریب ڈرون کے ملبے ملے ہیں، جس کے بعد بخارسٹ اور نیٹو پر کم لاگت فضائی دفاع کو بہتر بنانے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
حکام کے مطابق ڈرون انٹرسیپٹرز لڑاکا طیاروں یا مہنگے میزائلوں کے مقابلے میں کم لاگت اور زیادہ مؤثر متبادل ہیں، خاص طور پر کم قیمت ڈرونز کے خلاف۔ یہ ٹیکنالوجی نیٹو کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت مشرقی سرحدوں پر دفاعی نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے، کیونکہ یوکرین جنگ کے اثرات خطے میں مزید سیکیورٹی خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یوکرین تنازع جدید دفاعی نظام میں مصنوعی ذہانت اور خودکار ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیزی سے بڑھا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ حفاظتی، کنٹرول اور ممکنہ کشیدگی کے خطرات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
