میانمار کی فوجی قیادت نے 17 اپریل 2026 کو روایتی نئے سال کے موقع پر ایک وسیع عام معافی کا اعلان کیا، جس کے تحت سابق صدر ون منٹ کو رہا کر دیا گیا، جبکہ آنگ سان سوچی کی سزا میں تقریباً ساڑھے چار سال کی کمی کی گئی۔ تاہم سوچی اب بھی حراست میں ہیں۔ سرکاری اعلان کے مطابق اس عام معافی کے تحت 4,500 سے زائد قیدیوں کو ریلیف دیا گیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان میں سیاسی قیدیوں کی تعداد کتنی تھی۔
یہ فرق اس خبر کا اصل نکتہ ہے۔ ہیڈلائن بظاہر بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، مگر حقیقت میں دونوں معاملات ایک جیسے نہیں۔ ون منٹ کی رہائی فوری اور مکمل پیش رفت ہے، جبکہ سوچی کے لیے یہ صرف جزوی نرمی ہے۔ ان کے وکیل کے مطابق سوچی کی سزا، جو 27 سال تھی، اس میں تقریباً ایک چھٹا حصہ کم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ بدستور قید میں ہیں، اس لیے یہ فیصلہ سیاسی رخ بدلنے کے بجائے ایک محدود علامتی قدم زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب میانمار اب بھی 1 فروری 2021 کے فوجی انقلاب کے سیاسی اور انسانی اثرات سے باہر نہیں نکل سکا۔ اسی بغاوت میں آنگ سان سوچی اور ون منٹ کی منتخب حکومت کو ہٹا دیا گیا تھا۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے خلاف متعدد مقدمات چلائے گئے، جنہیں بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ون منٹ، جو سوچی کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، گرفتاری کے بعد سے زیر حراست تھے اور وہ 12 سال سے کم ہو کر 8 سال کی سزا کاٹ رہے تھے، جس کے بعد اب انہیں رہا کر دیا گیا۔
فوجی حکومت نے اس اقدام کو روایتی نئے سال کی عام معافی کا حصہ بنا کر پیش کیا، مگر ناقدین اور حقوق کے کارکنان اسے زیادہ محتاط نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے رہائیوں کا خیر مقدم تو کیا، لیکن ساتھ ہی کہا کہ تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ایک حقیقی سیاسی مکالمہ اب بھی ضروری ہے۔ اس ردِعمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس اقدام کو مفاہمت کا نقطۂ آغاز نہیں بلکہ ایک محدود اور حسابی قدم سمجھ رہی ہے۔
اس پس منظر میں وسیع تر انسانی قیمت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق 2021 کی بغاوت کے بعد تقریباً 8,000 شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور 22,000 سے زیادہ سیاسی قیدی اب بھی حراست میں ہیں۔ ایسے اعداد و شمار کے سامنے ون منٹ کی رہائی اور سوچی کی سزا میں کمی اہم تو ہے، مگر اسے کسی بڑے سیاسی موڑ کے طور پر پیش کرنا مشکل ہے۔ زیادہ درست بات شاید یہی ہے کہ فوجی حکومت نے ایک نرم تاثر دینے کی کوشش کی ہے، جبکہ اقتدار اور گرفت بدستور اسی کے ہاتھ میں ہے۔
