ولی قتل کیس میں نامزد ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے محض فرار کی کوشش نہیں کی، بلکہ ایک منظم منصوبے کے تحت اپنے ڈیجیٹل نقوش مٹائے اور تین اضلاع میں گاڑیاں تبدیل کرتا رہا۔ تفتیشی حکام نے منگل کو انکشاف کیا کہ ملزم 72 گھنٹے تک مسلسل حرکت میں رہا اور پولیس کے گھیراؤ سے بچنے کے لیے دور دراز کے ٹھکانوں کا سہارا لیتا رہا۔
ملزم نے واردات کے فوراً بعد اپنا بنیادی موبائل فون جائے وقوعہ کے قریب پھینک دیا تھا۔ یہ ایک سوچی سمجھی چال تھی تاکہ پولیس اس سگنل کا پیچھا کرنے میں وقت ضائع کرے جو پہلے ہی ایک نالے میں پڑا تھا۔ اس کے بعد اس نے پری پیڈ سمز کا استعمال شروع کیا، جنہیں وہ ہر چھ گھنٹے بعد تبدیل کرتا رہا تاکہ لوکیشن ٹریس نہ ہو سکے۔
تفتیش سے جڑے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ "ملزم انتہائی محتاط تھا۔ اس نے خاندان یا قریبی ساتھیوں سے رابطہ کرنے کی غلطی نہیں کی، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ہم ان مقامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔”
تاہم، اس کی گرفتاری کا سبب کوئی ڈیجیٹل غلطی نہیں، بلکہ ایک جسمانی کوتاہی بنی۔ سی سی ٹی وی کیمروں سے بچنے کے لیے ایک مصروف مارکیٹ میں گاڑی چھوڑنے کے بعد، اس نے جعلی شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے ایک طویل فاصلے کی بس میں سوار ہونے کی کوشش کی۔ اگرچہ کارڈ ماہرانہ طریقے سے تیار کیا گیا تھا، لیکن ہائی وے پر قائم ایک معمول کے چیک پوائنٹ پر سسٹم اپ گریڈ ہونے کی وجہ سے الرٹ بج اٹھا۔
جب اہلکاروں نے اسے سائیڈ پر بلایا تو وہ بھاگا نہیں، بلکہ اپنی کہانی پر قائم رہا اور دعویٰ کیا کہ وہ ایک مزدور ہے جو شہر مزدوری کے لیے جا رہا ہے۔ پولیس اہلکاروں کو اس کا حلیہ—خاص طور پر گواہوں کی جانب سے بتائے گئے چہرے کے نشانات—ملانے میں چند منٹ لگے۔
ملزم اس وقت پولیس کی حراست میں ہے، جہاں اس سے ان تین دنوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جو اس نے مفرور رہ کر گزارے۔ اگرچہ وہ تاحال قتل کے محرکات بتانے سے گریزاں ہے، لیکن اس کے سامان سے ملنے والی دستاویزات سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ فرار کا منصوبہ واردات سے کئی ہفتے پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا۔
فی الحال تفتیش کا رخ اس کے ممکنہ سہولت کاروں کی جانب مڑ گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کر رہی ہے کہ کیا اسے جعلی شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کسی نے مدد فراہم کی یا وہ یہ سب خود کر رہا تھا۔ مقدمہ جب ٹرائل کورٹ میں جائے گا تو استغاثہ اس کی گرفتاری سے بچنے کی ناکام کوششوں کو اس کے مجرمانہ فعل کے ثبوت کے طور پر پیش کرے گا۔
