سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو منگل کے روز کراچی میں ایک بچی کے اغوا اور قتل کے واقعے کی ابتدائی پولیس رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر عوامی غم و غصہ عروج پر ہے۔
پولیس حکام کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بچی کے اغوا سے لے کر لاش کی بازیابی تک کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس نے اگرچہ رپورٹ کے تمام مندرجات جاری نہیں کیے، تاہم ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر لیے ہیں۔
پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم مشتبہ افراد کا سراغ لگا رہے ہیں۔” ان کے مطابق تفتیشی ٹیمیں سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کے فرار ہونے کے راستوں کا تعین کر رہی ہیں۔
اس واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پیر کی رات مقامی تھانے کے باہر مشتعل شہریوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔ مقتولہ کے لواحقین نے پولیس پر غفلت کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ بچی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع بروقت دی گئی تھی، لیکن پولیس نے فوری کارروائی نہیں کی۔
صوبائی حکومت کے لیے یہ معاملہ ایک بڑی آزمائش بن چکا ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ پر کراچی پولیس کے نظام کو درست کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، کیونکہ ناقدین کا ماننا ہے کہ پولیس بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو روکنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی ہے کہ تفتیش کو تیز کیا جائے اور ملزمان کو خصوصی عدالت کے ذریعے سخت سزا دلوائی جائے۔
فوری انصاف کی یقین دہانیوں کے باوجود علاقے میں خوف کی فضا برقرار ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنے بچوں کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ کمیونٹی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں پولیس کی گشت میں اضافہ کیا جائے۔
تفتیش اب اپنے انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر پولیس اگلے 48 گھنٹوں میں کوئی ٹھوس پیش رفت کرنے میں ناکام رہی، تو یہ کیس شہر میں بچوں کے تحفظ کے نظام کی ناکامی کی ایک اور علامت بن جائے گا۔
