مئی کے وسط سے جولائی کے وسط تک کا وقت زمین پر ایک ایسی منفرد کیفیت لاتا ہے جس میں دنیا کی 99 فیصد آبادی ایک ہی وقت میں سورج کی روشنی کا تجربہ کرتی ہے۔ یہ عمل 18 مئی سے 17 جولائی کے دوران رونما ہوتا ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ زمین کے مدار اور جغرافیائی ساخت کا کمال ہے۔
دنیا کی بیشتر آبادی شمالی نصف کرہ میں رہتی ہے۔ اس عرصے میں زمین کا جھکاؤ سورج کی جانب ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں شمالی امریکہ، یورپ، افریقہ اور ایشیا کے بڑے حصے دن کی روشنی میں رہتے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق، یہ عمل عالمی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 15 منٹ پر اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ اس وقت سورج بحر الکاہل کے اوپر موجود ہوتا ہے، جو زمین کے گنجان آباد علاقوں کو مکمل طور پر روشن رکھتا ہے۔
باقی ماندہ ایک فیصد آبادی اندھیرے میں کیوں رہتی ہے؟ اس کا جواب جنوبی نصف کرہ کی جغرافیائی پوزیشن میں پوشیدہ ہے۔ جب شمال میں گرمیوں کے طویل دن ہوتے ہیں، تب آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی امریکہ کے انتہائی نچلے حصے رات کی تاریکی میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ اگرچہ وہاں مکمل اندھیرا ہوتا ہے، لیکن فلکیاتی اعتبار سے یہ حصہ بھی سورج کی کرنوں سے بالکل محروم نہیں ہوتا، کیونکہ ‘ایسٹرونومیکل ٹوائی لائٹ’ کے دوران سورج افق سے کچھ نیچے ہونے کے باوجود ہلکی روشنی فراہم کرتا ہے۔
شمالی نصف کرہ کے رہائشیوں کے لیے یہ دو ماہ سال کے طویل ترین دن لے کر آتے ہیں، جس کا نقطہ عروج 21 جون یعنی موسم گرما کا طویل ترین دن ہے۔ اس کے برعکس، جنوبی نصف کرہ میں یہی وقت سردیوں کی شدت کا ہوتا ہے۔
زمین کا یہ جھکاؤ قدرت کا ایک ایسا توازن ہے جو ہر سال ایک خاص وقت پر پوری دنیا کو ایک ہی دھارے میں پرو دیتا ہے۔ یہ ایک خاموش فلکیاتی حقیقت ہے جس سے ہم میں سے اکثر بے خبر رہتے ہیں، لیکن یہی وہ عمل ہے جو زمین پر دن اور رات کے عالمی نظام کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے۔
